سوال (6532)
قرآن مجید میں جو سود کی حرمت کا بیان ہے اس کی علت اضعافا مضاعفہ ہے۔ یعنی دوگنا چوگنا اس کے برعکس بیکنگ نظام میں صرف 12 فیصد مقرر مقدار اضافہ لیتے ہیں۔ تو یہ بینکنگ کا لین دین پھر کیسے سود کے زمرے میں آتا ہے؟
جواب
یہ قید اتفاقی ہے احترازی نہیں۔
سود ایک ذرہ برابر بھی ہو تو وہ اضعافا مضاعفہ کے زمرے میں ہی آئے گا۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
سود مطلقا حرام ہے خواہ وہ ایک کھجور ہی کیوں نا ہو۔
تفسیر، آل عمران: 130 اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً: اس سے بعض لوگوں نے سود مرکب کو حرام اور سود مفرد کو حلال ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، حالانکہ یہاں اس زمانے کے سود خوروں کی سنگ دلی بیان ہو رہی ہے، جو آج بھی موجود ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں بہت سے لوگ دوسروں کو سودی قرض دیا کرتے، جب قرض کی میعاد ختم ہو جاتی تو مقروض سے کہتے، قرض ادا کرو ورنہ سود میں اضافہ کرو۔ قرض ادا نہ کرنے کی صورت میں میعاد میں توسیع کر دی جاتی اور سود کی مقدار میں اضافہ کر دیا جاتا۔ اس طرح کچھ عرصے کے بعد سود کی مقدار اصل زر سے بھی کئی گنا زیادہ ہو جاتی اور یہ سود تجارتی اور غیر تجارتی دونوں طرح کا ہوتا تھا، جیسا کہ اس آیت کی تفسیر کے تحت تابعین نے تصریح کی ہے۔ سودی کاروبار کی اس بھیانک صورت کی طرف قرآن نے ”اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً“ کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے، ورنہ یہ مطلب نہیں کہ مرکب سود حرام اور سادہ جائز ہے۔ اسلام میں ہر قسم کا سود حرام ہے، صرف قرض کی ایک صورت جائز ہے، جیسا کہ فرمایا:
« وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ »
[البقرۃ: ۲۷۹ ] ’’اور اگر تم توبہ کر لو تو تمھیں اپنے اصل مال لینے کی اجازت ہے، نہ تم ظلم کرو گے اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔‘‘
*(تفسیر القرآن الکریم، آل عمران: 130)
سورت البقرہ کی تفسیر میں ذکر کردہ آیت میں بھی صرف اصل مال کا ذکر ہے اس سے زائد جو بھی ہوگا اس کی اجازت نہیں۔ بلاتخصیص، ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ العالم ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ




