محمد بن علی العقلاء مرحوم کی طلبہ سے والہانہ محبت اور ان کی اذیتوں پر صبر

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے سابقہ مدیرِ مرحوم دکتور محمد بن علی العقلاء کی تواضع، عاجزی اور محبت کے چرچے سوشل میڈیا پر دیکھ لیے گئے ہیں، جب سے ان کی وفات کی خبر آئی ہے، ان کے خصائل حمیدہ پر تسلسل سے پوسٹس آ رہی ہیں۔
اس حوالے سے ایک دو باتیں جن کے ہم عینی شاہد اور گواہ ہیں، وہ کچھ یوں ہیں کہ ان کے دور میں جب قاعۃ المحاضرات میں کوئی پروگرام یا درس وغیرہ ہوتا تو اس کے بعد کھانے کا وسیع تر انتظام ہوتا تھا، جبکہ کھانے والے بھی بے شمار ہوتے تھے، کئی بار بھگدڑ بھی مچ جاتی تھی، لیکن مدیر صاحب تمام پروٹوکول اور رکھ رکھاؤ کو ایک طرف رکھ کر بنفس نفیس خود کھانے والی جگہ پر موجود ہوتے اور طلبہ کی خدمت کرنے کی کوشش کرتے۔
ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہاں طلبہ بے دھیانی میں ان سے ٹکراتے، دھکم پیل ہوتی یہاں تک کہ مدیر صاحب کا شماغ اور عقال ان کے سر سے گرنا شروع ہو جاتا، لیکن وہ کبھی ماتھے پر شکن تک نہیں لے کر آئے، بلکہ ہنستے ، مسکراتے اور طلبہ کو نصیحت کرتے کہ صبر اور حوصلہ کریں، کھانا وافر مقدار میں موجود ہے۔
جبکہ دوسری طرف اس قسم کے ایک موقعے پر ہم نے دیکھا کہ ایک سعودی اپنا عقال اتار کر ایک افریقی طالبعلم کے پیچھے لگا ہوا ہے اور اسے مارنے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ وہ طالبعلم بھاگتے ہوئے ان کے ساتھ ٹکرا گیا تھا…!
ظاہر ہے یہ ایک بدتہذیبی تھی، جس پر غصہ آنا ایک فطری معاملہ تھا، لیکن مدیر صاحب کی وسعت ظرفی، تواضع، حوصلہ اور صبر تھا کہ اس قسم کی شدید نوعیت کے معاملات کو بھی خندہ پیشانی سے نہ صرف برداشت کرتے، بلکہ مسکراتے دکھائی دیتے!
جامعہ میں عقلا مرحوم کے زمانہ ادارت میں طالبعلموں کے پاس براہ راست ان کا نمبر ہوتا تھا، جو دن دیکھتے تھے نہ رات اور فورا انہیں فون ملا دیتے تھے، مثلا کسی طالبعلم کو رات آنے میں تاخیر ہوئی، سیکیورٹی گارڈ نے اندر نہیں آنے دیا، تو طالبعلم وہاں کھڑے کھڑے فون ملا دیا اور مدیر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا کہ حارس/ گارڈ سے میری بات کروا دیں اور کہا کہ آئندہ لیٹ نہیں آتے، انہیں جانے دیں!
جاتے جاتے ایک اہم بات سنتے جائیں، عقلاء صاحب بھی بعض لوگوں کے ہاں اخوانی مشہور تھے، (بلکہ جامعہ کے اکثر لوگ ان کی نظر میں اخوانی ہیں اور تھے)
انڈیا کے ایک صاحب جنہوں نے حال ہی میں دکتورہ مکمل کیا ہے، ایک بار ہم اکٹھے مسجد نبوی سے واپس جامعہ آ رہے تھے، کہیں مدیر صاحب کا ذکر شروع ہوگیا، کہنے لگے: سالا اخوانی تھا..!
رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ وأدخلہ فرادیس الجنان!

#خیال_خاطر

 

یہ بھی پڑھیں:علماء و مشایخ کانفرنس میں منکرات کا ذمہ دار کون ہے؟