سوال (6510)

ایک شخص سعودیہ میں ٹیکسی چلاتا ہے، کبھی وہ جدہ ہوتا ہے کبھی نمرہ ہوتا ہے کبھی مکہ کبھی مدینہ، اس نے رہائش ہر شہر میں رکھی ہوئی ہے مطلب کرائے پے کہ جس شہر میں رات آجائے وہیں ٹھہر جائے اب وہ نماز قصر پڑھے گا یا مکمل؟

جواب

سوال میں اس کی وضاحت نہیں کہ بندہ کہاں کا ہے، کیا وہ پاکستان کا بندہ ہے؟
بہر کیف اگر بندہ وہاں کا ہو یا یہاں کا ہو، تو ایسے شخص جو مستقل سفر میں رہتا ہے اس کے پھر کئی وطن ہو جاتے ہیں۔
عام طور پر دو وطن ہوتے ہیں، دو سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔
کبھی مکہ میں ہے، کبھی دمام میں ہے، کبھی مدینے میں ہے، کبھی طائف میں ہے، ٹھیک ہے جی، کبھی کراچی میں ہے؛ تو ایسے لوگ جو ہیں وہ پھر مستقل اگر اسی طرح کرتے ہیں روزانہ کی بنیاد پر تو پھر وہ مستقل مسافر ہے۔ تو اس کا حکم یہ ہے کہ جہاں بھی منزل پر پہنچے گا، یہاں کی ہو یا وہاں کی، مکہ ہو یا مدینہ ہو، طائف ہو یا دمام ہو، جب منزل پر پہنچے گا نماز پوری پڑھے گا۔
راستے میں جو نمازیں آئیں گی وہ قصر کرے گا، بس اسی طرح چلے گا وہ۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ