بے جا اختلافات کی بنیادی وجوہات
امام ابن الوزیر الیمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«إِن الَّذِي وسع دَائِرَة المراء والضلال: هُوَ الْبَحْث عَمَّا لَا يعلم وَالسَّعْي فِيمَا لَا يدْرك وَطول السّير وَالسَّعْي فِي الطَّرِيق الَّتِي لَا توصل إِلَى الْمَطْلُوب والإقتداء بِمن يظنّ فِيهِ الْإِصَابَة وَهُوَ مُخطئ والإشتغال بالبحث عَن الدقائق الَّتِي لَا طَرِيق إِلَى مَعْرفَتهَا وَلَا يُوصل الْبَحْث عَنْهَا إِلَى الْيَقِين وَلَا إِلَى الْوِفَاق وَلَا ظَهرت للخوض فِيهَا مَعَ طوله ثَمَرَة نافعة لَا بِالْيَقِينِ صادعة وَلَا للإفتراق جَامِعَة وَلَا رُوِيَ عَن أحد من الْأَنْبِيَاء عليهم السلام وَلَا صَحَّ عَن أحد من السّلف الْكِرَام».
[إيثار الحق على الخلق في رد الخلافات: ص10]
بے جا اختلافات اور گمراہی پروان چڑھنے کی درج ذیل وجوہات ہیں:
1۔ تحقیق و دانش وری کے نام پر ایسی چیزوں میں مغز ماری کرنا جن کی حقیقت و کنہ انسان معلوم ہی نہیں کر سکتا۔
2۔ ایسے موضوعات و مباحث میں الجھنا جو منزل مقصود تک پہنچنے کا ذریعہ نہیں بن سکتے۔
3۔ ایسی شخصیات کو حق سمجھتے ہوئے ان کی اندھی تقلید جو حقیقت میں غلطی کے راستے پر گامزن ہیں۔
4۔ ایسی موشگافیوں میں پڑنا جن کی معرفت انسان کے لیے ممکن ہی نہیں، ان میں بحث و تحقیق سے یقین حاصل ہوتا ہے نہ اتحاد و اتفاق اور نہ ہی ان لمبی چوڑی بحثوں کا کوئی فائدہ ہے، انبیائے کرام نے ان سے متعلق گفتگو فرمائی نہ سلف صالحین نے انہیں موضوع بنایا۔




