حافظ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اِنسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کی گھڑیاں، بلکہ اپنی سانسیں بھی اُس کام میں صرف کرے جس سے وہ اعلیٰ مقاصد حاصل کر سکے اور واضح خسارے سے محفوظ رہ سکے۔ اور یہ قرآن کی طرف متوجہ ہونے، اسے سمجھنے، اس میں غور و فکر کرنے، اس کے خزانوں کو نکالنے، اس کے پوشیدہ اَسرار و معارف کو کھوجنے، اپنی پوری توجہ اسی کی طرف مبذول کرنے اور پوری ہمت و لگن کے ساتھ اسی پر جم جانے کے سوا ممکن نہیں۔ کیونکہ بے شک یہی قرآن دنیا اور آخرت میں بندوں کی بھلائیوں کا ضامن ہے، اور یہی انہیں ہدایت کے راستے تک پہنچانے والا ہے۔‘‘



