ریاکاری صرف نماز، خطبہ، تراویح کے ساتھ خاص نہیں ہے، کسی کو ریاکار کہنے والے خود بھی ریاکار ہو سکتے ہیں، کیونکہ تنقید اور نصیحت بھی سب کو نظر آ رہی ہوتی ہے، جہاں ریاکاری کا احتمال موجود ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جن چیزوں کا تعلق دل اور نیت کے ساتھ ہے، وہاں اپنے بارے میں تو فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ میں ریاکار ہوں یا مخلص؟ لیکن کسی کے بارے میں کیسے دعوی کیا جائے کہ اس کے اندر ’اخلاص’ ہے یا وہ دکھاوا کر رہا ہے؟!
#خیال_خاطر
🖋فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ




