سوال (6608)

قصر نماز کے لیے یہ بھی ہے کہ جہاں وہ گیا ہے وہاں اس کی جائیداد وغیرہ نہ ہو یا پھر ماں باپ کا گھر نہ ہو تو قصر کرے ورنہ پوری پڑھے؟ مسئلہ بتادیں۔ شکریہ

جواب

شریعت کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ کسی جگہ جائیداد ہے یا نہیں۔ ہر انسان اپنے حال کو خود بہتر جانتا ہے کہ وہ کہاں مسافر ہے اور کہاں مقیم۔ جائیداد کو معیار بنانا درست نہیں، ورنہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جتنے لوگ اس وقت میری آواز سن رہے ہیں، کیا سب کے پاس جائیداد ہے؟ یقیناً نہیں۔
اگر کوئی شخص کسی شہر میں مستقل طور پر کرائے پر رہ رہا ہے اور وہاں اس کی رہائش مستقل ہے، تو محض جائیداد نہ ہونے کی وجہ سے وہ مسافر نہیں بن جاتا۔ ہرگز نہیں۔ بعض لوگ اس سے بھی آگے بڑھ کر کہتے ہیں کہ انسان تو دنیا میں بھی مسافر ہے، لہٰذا جب تک زندہ ہے قصر نماز ہی پڑھے یہ بات ہوائی، بے بنیاد اور بے اصل ہے۔
لہٰذا شریعت اس چیز کو نہیں دیکھتی کہ جائیداد کہاں ہے اور کہاں نہیں، بلکہ شریعت کا سوال بالکل سادہ ہے: آپ خود سے پوچھیں کہ اس وقت آپ مسافر ہیں یا مقیم؟
اور یہ بات ہر انسان اپنے بارے میں سب سے بہتر جانتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ