قوت برداشت سے محرومی ایک خطرناک مرض

خوشی، غمی، اتفاق و اختلاف، تنگی آسانی، پسند نا پسند یہ سب چیزیں انسان کے مزاج اور رویے پر اثر انداز ہوتی ہیں اور یہ ایک فطری عمل ہے۔
لیکن
اگر مرضی کے خلاف بات سن کر آپ کی سانس بے ترتیب ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
مخالف سے بات کرتے ہوئے غصے سے ہاتھ پاؤں کانپنا شروع ہو جاتے ہیں۔
دوران گفتگو بار بار دوسرے کی بات کاٹتے اور کوشش کرتے ہیں کہ اس کی بجائے خود ہی بولتے رہیں۔
اس قسم کی علامات اس چیز کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اللہ رب العالمین نے قوت برداشت اور حوصلہ کی صورت میں جو نعمت انسانوں کو عطا فرمائی ہوئی ہوتی ہے، وہ آپ سے رخصت ہو چکی ہوئی ہے۔
لہذا اپنا اور ارد گرد کا خیال رکھتے ہوئے مباحثے اور مکالمے سے گریز کریں۔
معذوری صرف آنکھ، کان، ہاتھ، پاؤں کی نہیں ہوتی یہ بھی معذوری کی خطرناک صورت ہے کہ انسان کے اندر عقل و دانش، حوصلہ اور برداشت ختم ہو جائے۔
جس طرح اندھے کو گاڑی نہیں چلانی چاہیے، بچوں سے چھری چاقو اور اسلحہ دور رکھا جاتا بے، اسی طرح قوت برداشت سے محروم آدمی کو اختلافی موضوعات، مباحثے اور ڈائیلاگ سے دور رہنا چاہیے۔
جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین آدمی وہ ہے جو الگ تھلگ رہتا ہے، لوگوں کے شر سے بچتا اور انہیں اپنے شر سے بچاتا ہے۔
لیکن جس طرح اندھے کو اس کی معذوری کا طعنہ دینا درست نہیں، اسی طرح اس قسم کے معذور کو بھی شفقت، محبت اور ترس کی نگاہوں سے دیکھنا چاہیے، ایسے لوگوں کو ترکی بہ ترکی جواب دینے کی بجائے خاطر مدارت سے کام چلانا چاہیے۔
جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو برے اخلاق کا حامل قرار دیا، لیکن جب وہ آپ کو ملنے آیا تو آپ نے اس کے ساتھ بڑے اچھے طریقے سے گفتگو کی، تاکہ اسے فحش گوئی اور بدکلامی کا کوئی بہانہ نہ مل سکے!
جس طرح دیگر بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے، اس کی اصلاح بھی ممکن ہے، کسی اچھے معالج سے رہنمائی لی جا سکتی ہے۔
اللہ تعالی سب کو صحت و عافیت کی نعمت سے مالا مال فرمائے۔

#خیال_خاطر

یہ بھی پڑھیں:غصے میں بھی بچوں کو دعا دینا