غصے میں بھی بچوں کو دعا دینا

عبد اللہ بن عون رحمہ اللہ (١٥١هـ) کو جب اپنے گھر والوں میں سے کسی پر غصہ آتا تو دعا دیتے: “بارك الله فيك.” ’’اللہ تعالی تجھے برکت دے۔‘‘
ایک دن اپنے بیٹے سے کہا:

“بارك الله فيك.”

تو بیٹے نے پوچھا: ابا جی! یہ آپ نے مجھے کہا ہے؟ پاس بیٹھے شخص نے کہا: آپ کے والد نے بھلائی کی دعا ہی تو دی ہے؟ تو کہنے لگے: ’’والد صاحب کو کچھ برا لگا ہے اسی لیے انہوں نے یہ کہا ہے۔‘‘

(الثقات للعجلي ت قلعجي، صـ ٢٧٠)

⇚ عون بن عبد اللہ بن عتبہ رحمہ اللہ (بعد ١١٠هـ) کو جب اپنے کسی غلام کی غلطی پر غصہ آتا تو فرماتے: ’’تمہاری عادت اپنے مالک سے کتنی ملتی ہے، میں اپنے مالک اللہ تعالی کی نافرمانی کرتا ہوں اور تُو اپنے مالک یعنی میری نافرمانی کرتا ہے۔‘‘ پھر فرماتے:

“أنت حر لوجه اللَّهِ.”

’’جاؤ تم اللہ کے لیے آزاد ہو۔‘‘

(روضة العقلاء لابن حبان، صـ ١٣٩)

⇚ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (٨٥٢هـ) کو جب اپنے کسی ملازم یا شاگرد پر غصہ آتا تو صرف یہ کہتے:

“إنا للَّه.”

’’ہم تو صرف اللہ تعالی کے لیے ہیں۔‘‘

(الجواهر والدرر للسخاوي : ٣/ ١٠٠١)

 حافظ محمد طاھر حفظہ اللہ

یہ بھی پڑھیں:امام مسجد کے لیے حکومتی وظیفہ