سوال (239)
کیا جماعت سے ملنے والا شخص اکیلا صف میں کھڑا ہو جائے اور دوسرا بندہ اس کے ساتھ نہ ملے تو اس اکیلے نمازی کی نماز کا کیا حکم ہے؟ کسی سے سنا ہے کہ اس کو جماعت کا ثواب تو مل جائے گا مگر نماز دہرانا پڑے گی؟
جواب
صف کے پیچھے نمازی کو اکیلے کھڑے ہوکر نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، اس کی اجازت نہیں ہے، اس کی نماز نہیں ہوگی، جب نماز ہی نہیں ہوئی تو ثواب کس بات کا، یہ عجیب منطق ہے کہ نماز نہیں ہوئی ہے اور ثواب جماعت کا ملے گا، یہ تو ایسے ہے کہ کوئی بغیر وضوء نماز پڑھے نماز نہیں ہوئی اور ثواب مل جائے گا، یہ کیا منطق ہے۔
جو بندہ صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھے گا، اس کی نماز ہی نہیں ہوئی ہے، تو ثواب کس چیز کا ہوگا۔
فضیلۃ الشیخ سعید مجتبیٰ سعیدی حفظہ اللہ
عام طور پر یہ سوال اس مسبوق کے بارے میں ہوتا ہے جو اگلی صف میں جگہ نہ پائے، اس حوالہ سے تین موقف ہیں:
1: اکیلا ہی پڑھ لے یہ مجبوری کی صورت ہے۔
2: اکیلا پڑھے اور بعد میں مکلمل نماز دہرائے یہ شیخ عبد المنان نورپوری رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ اگلی صف سے بندہ کھینچنا صف کو توڑنا ہے اور یہ منع ہے اور صف میں اکیلے نمازی کو نماز دہرانے کا حکم ہے لہذا یہ نماز پڑھے اور بعد میں دہرائے۔
3: اگلی صف سے بندہ کھینچ لے، یہ بخاری و مسلم وغیرہ کی ان احادیث سے استدلال ہے، جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں بائیں دو صحابہ کو پیچھے کردیا تھا یعنی صف کو توڑ کر پیچھے صف بنائی لہذا اس صورت میں اگلی صف سے بندہ لینے میں صف کو توڑنا صف بنانے کے لئے ہے تو یہ جائز ہے۔ واللہ اعلم۔
ہم اس تیسرے موقف کو راجح سمجھتے ہیں باقی مسئلہ اجتہادی ہے۔
فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ
سوال: جماعت میں اگلی صف مکمل ہونے کی وجہ سے پچھلی صف میں مجبوراً اکیلا نمازی ہے اور مزید کوئی بندہ نہیں ہے تو اب وہ اگلی صف سے بندہ کھینچ کر پیچھے کرے گا؟ اس میں ایک تو یہ ہے کہ اگلی صف بھی ناقص کر دی اور پھر اس سے فتنہ بھی پڑ سکتا ہے، اور اگر کسی دوسرے نمازی کا انتظار کرتا ہے تو جماعت نکل سکتی ہے۔ مسئلہ کو واضح کر دیں۔
جواب: دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اہلِ علم کی مختلف آراء پائی جاتی ہیں:
- اکیلا پیچھے کھڑا ہونا: اگر کوئی شخص پیچھے اکیلا کھڑا ہو اور آگے جگہ نہ ہو، تو وہ مجبور و معذور سمجھا جائے گا۔ چونکہ اس نے قصداً ایسا نہیں کیا بلکہ مجبوری یا اتفاقاً ہوا، اس لیے اس کی نماز ہو جائے گی۔
- آگے سے کسی کو پیچھے کھینچنا: اگر وہ آگے سے کسی کو پیچھے صف میں کھینچ لے تو بھی کوئی حرج نہیں، کیونکہ اس نے یہ عمل صف مکمل کرنے کے لیے کیا ہے۔ صفوں میں خلا پر کرنا سنت ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں دینی تعلیم کی کمی ہے، جس کی وجہ سے صفوں میں خلا باقی رہتے ہیں۔ اگر درمیان میں کوئی شخص صف سے نکل جائے (مثلاً وضو ٹوٹنے کی وجہ سے)، تو خلا پیدا ہوتا ہے، اور اسے پُر کرنا ضروری ہے۔ دو بندوں کو نماز پڑھتے ہیں، ان میں ایک کو کھینچا جاتا ہے، اس پر استدلال کرتے ہوئے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
- صف کے کنارے سے آگے امام کے دائیں طرف جانا: تیسری صورت یہ ہے کہ وہ صف کے کنارے سے راستہ بنا کر امام کے دائیں طرف جا کر کھڑا ہو جائے۔
یہ تینوں صورتی ہیں اور ان میں نماز ہو جائے گی، ان شاءاللہ۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: شیخ کوئی روایت موجود ہے اکیلے صف میں نماز نہیں ہوتی ایک حنفی عالم بتا رہے تھے۔
جواب: «أَنَّ رَجُلًا صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ الصَّلَاةَ»
(ایک آدمی نے پچھلی صف میں اکیلے ہی نماز پڑھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم دیا تھا۔ [صحیح، سنن الترمذی: 230، 231]
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




