سوال (3867)

اللهمَّ اكْتُبْ لِي بها عِنْدَكَ أَجْرًا وَضَعْ عَنِّي بها وِزْرًا وَاجْعَلها لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا وَتَقَبَّلها مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتها مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ،

یہ دعا ثابت ہے۔

جواب

جی ہاں! یہ روایت صحیح ہے، یہ دعا سجدہ تلاوت میں پڑھی جا سکتی ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سوال: اَللّهُمَّ اكْتُبُ لِى بِهَا عِنْدَكَ اَجْراً وَضَعُ عَنِّى بِهَا وِزْرًا وَاجْعَلُهَا لِى عِنْدَكَ ذُخُرًا وَ تَقَبَهَا مِنْدَكَ ذُخُرًا تَقَبَّلْتَ مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ[جامع الترمذی]

سجدہ تلاوت کی یہ دعا درست ہے یا دوسری سجد وجھی والی؟

جواب: سجدہ تلاوت کے لیے یہ دعا زیادہ بہتر ہے ۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

أحسنتم وبارك فيكم وعافاكم

فائدہ: سجدہ تلاوت کی کوئی مسنون دعا ثابت نہیں ہے، نہ ہی کسی صحابی اور ثقات حفاظ نے کوئی ایسی بات نقل کی ہے، نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے حوالے سے نہ قولا، نہ عملا۔

اس لئے سجدہ تلاوت کرنے پر وہی تسبیحات پڑھی جائیں جو عام سجدہ میں پڑھتے ہیں۔

هذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ