سوال (5603)

سیلابی صورتحال میں نماز کا کیا حکم ہے، جگہ ہی نہیں نماز پڑھنے کے لیے لباس پاک نہیں، گندا پانی طہارت بھی نہیں نماز کا اہتمام کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟

جواب

یہ سوال کہ وضو کا پانی کہاں سے لیا جائے، ایک الزامی جواب رکھتا ہے: جیسے آپ پینے کا پانی حاصل کرتے ہیں، وضو کا پانی بھی اسی طرح حاصل کریں۔ یہ مسئلہ نیا نہیں ہے، 1978 سے ایسے حالات اور سیلاب دیکھے جا رہے ہیں، دعوے تو بہت ہوتے ہیں، مگر عمل کم۔
امدادی ٹیمیں پانی فراہم کرتی ہیں، لیکن وہ بھی ہر جگہ نہیں پہنچ پاتیں، زیادہ سے زیادہ 50 سے 70 فیصد علاقوں تک۔ عام طریقہ یہ ہے کہ کپڑے کی آٹھ تہیں بنا کر اس میں پانی چھان لیا جائے، اور لوگ وہی پانی پیتے ہیں۔ جب پینے کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے تو وضو کا بھی ہو سکتا ہے۔
پانی کم ہونے کے علاوہ دوسرا مسئلہ جگہ کا ہوتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھو، نہ ہو سکے تو بیٹھ کر، اور اگر وہ بھی ممکن نہ ہو تو لیٹ کر۔ جہاں بیٹھنے کی جگہ ہے، وہیں نماز بھی پڑھی جا سکتی ہے، حتیٰ کہ درخت یا ٹیکری پر بھی۔ اگر پانی نہ ہو تو پاک مٹی سے تیمم کیا جا سکتا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ جب انسان نیت کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے راستے پیدا کر دیتا ہے۔ یہ سوال بظاہر اس غرض سے ہے کہ آیا ان حالات میں نماز معاف ہو سکتی ہے، لیکن جواب ہے: نہیں۔ نماز ہر حال میں فرض ہے، اور اللہ آسانی پیدا کر دیتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ