”تلاش حق“ کے مصنف:
انجینئرارشاد اللہ مان رحمہ اللہ

پاکستان میں صوبہ پنجاب کا مشہور شہر؛ اور رقبے کے اعتبار سے وسیع ضلع: “ضلع شیخوپورہ”، مردم خیزی میں ان معروف اضلاع میں شمار ہوتا ہے جنھوں نے وطن عزیز پاکستان کی خدمت، نیک نامی اور عالمی سطح پر نمائندگی کا حق ادا کرنے والے سپوت پیدا کیے ہیں۔ ان بے شمار مشاہیر اور بہت سے گم نام ہیروز کے صرف نام ہی درج کرنے لگیں تو طویل فہرست مرتب ہوگی، جو کہ فی الوقت ہمارا موضوع نہیں ہے۔ ہم شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والی ایک معروف شخصیت کا تذکرہ کرنا چاہتے ہیں جنھوں نے شرک کی دلدل سے نکل کر توحید کے چشمہ صافی سے اپنی حیات مستعار کو سیراب کیا؛ اپنے تجربات و مشاہدات کے پیش نظر عوام الناس کو جہالت کے اندھیروں سے نکل کر علم، شعور، خداشناسی اور توحید و سنت کے نور سے منور زندگی گذارنے کی دعوت دی، ہماری مراد: منصف مزاج واعظ، دبنگ مصنف، مدلل و مؤثر تحریر سے ان گنت دلوں کو توحید و سنت کا حقیقی پیروکار بنانے والے، پیرانہ سالی میں بھی جواں ہمت شیردل مجاہد:انجینئر ارشاد اللہ مان(رحمہ اللہ) ہیں۔
شہر شیخوپورہ سے جانب جنوب، فیصل آباد روڈ پر آباد، قدیم اور معروف ترین قصبہ فیروزوٹواں اور دوسری جانب سے مشہور شہر منڈی واربرٹن کے نواحی گاؤں: ولگن سہیل میں جٹ برادری کی مشہور گوت: مان، کے ایک معزز گھرانے میں محمد حسین مان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا، جس کا نام ارشاد اللہ رکھا گیا۔
جب شہر:ننکانہ صاحب، کو ضلع شیخوپورہ کی تحصیل سے بڑھا کر ضلع کا درجہ دیا گیا تو تقسیم کے اعتبار سے ولگن سہیل، ضلع شیخوپورہ سے ضلع ننکانہ میں شامل کردیا گیا۔
ارشاد اللہ مان (رحمہ اللہ)نے سکول کی ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں (ولگن سہیل) کے سرکاری سکول میں ہی حاصل کی، اور 1954ء میں میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول واربرٹن سے پاس کیا۔ پھر 1956ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے انجیئرنگ میں FSc کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں رسول کالج آف ٹیکنالوجی منڈی بہاؤالدین سے DAE کی ڈگری حاصل کی۔ 1961ء میں ضلع کونسل شیخوپورہ میں سرکاری ملازمت مل گئی۔ آپ نے محکمہ واپڈا اور ریلوے ایریگیشن میں بھی بطور انجینئر خدمات انجام دیں۔ سرکاری ملازمت کا یہ سلسلہ تقریبا 33 سالوں پر محیط رہا۔
انجینئر ارشاد اللہ مان (رحمہ اللہ)1967ء میں شہر شیخوپورہ میں، سٹیڈیم کے قریبی سٹیڈیم پارک محلہ مسلم گنج میں رہائش پذیر ہوئے۔ آپ کا خاندان چونکہ بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھتا تھا، اور آپ بھی اسی مسلک کے پیروکار تھے۔ سرکاری ملازمت کے بالکل ابتدائی دور میں سن 1962ء میں اپنے دوستوں کے ہمراہ آپ (ضلع شیخوپورہ کی حالیہ تحصیل)شرق پور شہر میں میاں شیر محمد کے مزار پر لگنے والے سالانہ عرس میں شرکت کے لیے شرقپور آئے۔ جہاں محفل سماع، یعنی قوالی اور نعت گوئی کے ساتھ ساتھ ملک بھر سے آئے ہوئے مشہور اور کبار حنفی بریلوی خطباء اور دیگر آستانوں سے منسلک گدی نشین حضرات وغیرہ، کے دروس اور تقاریر کا بھی طویل سلسلہ منعقد ہوتا ہے۔
ارشاد اللہ مان (رحمہ اللہ) خود بیان فرماتے تھے کہ میں اور میرے احباب میاں شیر محمد کےعرس میں پہنچے تو بڑا عجیب منظر دیکھا۔ سٹیج لگ چکا تھا، بیس کے قریب علماء سٹیج پر براجمان تھے۔ سٹیج سیکرٹری سپیکر پر یکے بعد دیگرے علماء کے نام پکار رہا تھا، ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ باری باری علماء مائیک پر آتے، تقریر فرماتے اور واپس اپنی نشست پر بیٹھ جاتے۔ ایک مولوی صاحب؛ جن کا نام مولوی نوری قصوری تھا، وہ مائیک پر تشریف لائے، انھوں نے تقریر شروع کی اور تقریر میں ایک واقعہ سنایا، جو کچھ یوں تھا:
جنید بغدادی؛ بغداد کے رہنے والے تھے۔ اس شہر کے ساتھ دریائے دجلہ بہتا ہے۔ جنید بغدادی جائے نماز لے کر دریا کے کنارے تشریف لائے اور دریا کے کنارے پر جائے نماز بچھا کر دو رکعت نفل نماز پڑھی۔ اس کے بعد جائے نماز کو اٹھا کر دریا میں بہتے پانی پر رکھ دیا اور ساکن جائے نماز پر دو رکعات نفل نماز ادا کی، پھر جائے نماز کو دریا کے دوسرے کنارے کی طرف چلنے کا حکم دیا، دوسرے کنارے پہنچ کر کنارے پر جائے نماز بچھا کر دو رکعات نفل نماز ادا کی، پھر جائے نماز اٹھا کر انھوں نے دریا کے اندر بہتے پانی پر رکھ دی اور خود اس کے اوپر بیٹھ گئے اور جائے نماز کو واپس شہر کی طرف چلنے کا حکم دیا۔ جائے نماز ابھی دریا کے اندر تھوڑی ہی دور گئی تھی کہ قریبی جنگل سے ایک آدمی نکلا، اس نے کہا مجھے بھی بغداد شہر جانا ہے۔ تو جنید بغدادی نے جائے نماز کو حکم دیا کہ واپس کنارے پر لگ جاؤ، چنانچہ اس آدمی کو بھی جائے نماز پر بٹھا لیا۔ جنید بغدادی نے اس آدمی کو حکم دیا کہ تم یاجنید، یاجنید کہتے رہو اور میں یا اللہ یا اللہ کہوں گا، وہ سامنے بغداد شہر ہے، ہم ابھی پہنچ جائیں گے۔ اس آدمی نے یاجنید، یاجنید کہنا شروع کیا اور جنید بغدادی یا اللہ، یا اللہ کہتے رہے اور جائے نماز دریا کے اندر بہتے پانی پر بغداد شہر کی طرف چلنے لگی۔ جب آدھا سفر طے ہو گیا تو شیطان نے اس آدمی کے کان میں پھونکا کہ تم شرک کر رہے ہو کیونکہ تم غیر اللہ کو پکار رہے ہو، جیسا کہ شیطان انسان کے کان میں پھونکا کرتا ہے۔ اس آدمی نے سوچا بات تو ٹھیک ہے، چنانچہ اس نے یاجنید کی بجائے یااللہ یااللہ کہنا شروع کر دیا۔ یہ کہنا تھا کہ وہ پانی میں ڈوبنے لگا، جب جنید نے یہ صورت حال دیکھی تو اس کو بالوں سے پکڑ کر جائے نماز پر بٹھایا اور فرمایا: تمھارے ساتھ یہی ہونا چاہیے تھا کہ تم جنید تک تو ابھی پہنچے نہیں اور اللہ کو لگے ہو پکارنے۔
مولوی نوری قصوری کی اس بات نے میرے تن بدن میں آگ لگا دی۔ حالانکہ مجھے نہیں پتا تھا کہ بریلوی کیسے ہیں؟ دیو بندی کیا ہیں؟ اہل حدیث کون ہیں؟ اور یہ کہ شیعہ کیا چیز ہیں؟ کیونکہ میں نے صرف میٹرک اور ایف ایس سی میں اسلامیات پڑھی تھی، اس کے علاوہ میرا مذہبی مطالعہ نہ تھا۔
میرے نزدیک مولوی نوری قصوری کی بات اللہ کے حضور بہت بڑی گستاخی تھی، چنانچہ میرے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ یہ لوگ گمراہ ہیں اور مجھے تحقیق کرنی چاہیے کہ اصل دین کیا ہے؟ پھر 1962ء سے لے کر 2005ء تک میں نے ہمیشہ یہ تحقیق کی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جو دین دیا ہے، وہ کیا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ میں نے احمد رضا خان کا ترجمہ قرآن اور تفسیر مراد آبادی پڑھی، دیو بند مکتب فکر کا ترجمہ وتفسیر پڑھی، اہل حدیث کا ترجمہ وتفسیر پڑھی، سعودیہ سے چھپنے والا قرآن کا اردو ترجمہ اور تفسیر پڑھی، صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مشکوۃ شریف کا ترجمہ پڑھا، حنفی فقہ کی کتابیں یعنی ہدایه، در مختار، کنز الدقائق، قدوری، شرح وقایہ، فتاوی عالمگیری، ما لابد منہ اور بہشتی زیور وغیرہ پڑھیں۔ شیخ عبد القادر جیلانی کی کتاب “غنیۃ الطالبین” کا مطالعہ کیا، مولانا یوسف جے پوری کی کتاب “حقیقۃ الفقہ” اور دیگر بے شمار کتابیں پڑھیں، تا کہ حقیقی دین کا پتا چل سکے۔ علاوہ ازیں آج کے تمام متنازعہ مسائل پر بریلوی، دیوبندی اور اہل حدیث علماء سے قرآن مجیداور صحیح حدیث کی روشنی میں بار بار تبادلہ خیال کیا، کیونکہ اگر انسان حقیقی دین کا علم حاصل کیے بغیر کوئی عقیدہ رکھے گا اور عمل کرے گا تو جب قیامت کے دن ایسا انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوگا تو اللہ تعالی فرمائے گا تیرا عقیدہ ہی ٹھیک نہ تھا، لہذا تیرے سارے اعمال رائگالں ہیں اور تو جہنم کا مستحق ہے۔
اس طویل عرصے پر محیط دوران سروس اور بعد از ریٹائرمنٹ، مسلسل مطالعہ اور اس سے حاصل شدہ تحقیق و حقائق کے نتیجے میں ارشاد اللہ مان (رحمہ اللہ) نے بریلوی مسلک کو چھوڑ کر مسلک اہل حدیث اپنالیا اور قرآن و سنت کی حقیقی تعلیمات پر عمل پیرا ہوگئے۔ اس برکت سے آپ کے خاندان کے دیگر کئی افراد نے بھی مسلک اہل حدیث قبول کیا۔
پھر ارشاد اللہ مان (رحمہ اللہ) نے تمام مکاتب فکر کے نظریات کا موازنہ کر کے باقاعدہ دلائل سے مزین ایک مدلل کتاب تصنیف کی۔ یہ کتاب دراصل ان کی تینتالیس سالہ تحقیق کا نچوڑ تھا۔ انھوں نے اس کتاب کا نام “کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُوْن” رکھا اور اسے شائع کروا کر افادہ عام کے لیے بالکل فری تقسیم کیا۔ جو شہر بھر سے تعلق رکھنے والے عام افراد کے ساتھ ساتھ بہت سے دینی و عصری تعلیم کے اداروں کے طلبہ اور بعض سیاسی حلقہ کی معتمد شخصیات اور بہت سے ڈاکٹرز اور وکلاء تک بھی پہنچی۔
اس کتاب سے متاثر ہوکر مسلک اہل حدیث کی حقانیت جاننے اور دیگر مسالک کے علماء کی کتمان حق جیسی بدعنوانیوں سے شناسائی پانے والوں کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہوتا چلا گیا۔ یہاں یہ بات ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ شہر شیخوپورہ کے مرکزی چوک (بتی چوک) میں واقع رحمن کمپیوٹر کالج کے منتظم سر عبدالرحمن نے انجیئرہ ارشاد اللہ مان (رحمہ اللہ) کی اس کتاب کو کمپوز کیا تھا، اسی دوران وہ بھی مسلک حق اہل حدیث کے پیروکار بن گئے۔ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ میں(امان اللہ عاصم)نے مؤرخہ 3نومبر 2025ء سوموار کے روز سر عبدالرحمن صاحب سے اس بات کی تصدیق چاہی تو انھوں نے فرمایا: واقعی ایسا ہی ہے؛ مجھے بعض مسائل میں اہل حدیث کا موقف درست معلوم ہوتا تھا لیکن مکمل طور پر شرح صدر نہ ہونے کی بنا پر میں سستی اور غفلت کا شکار رہا، لیکن مان صاحب کی کتاب جب نظروں سے گزری تو ہر چیز باحوالہ صورت میں واضح ہوگئی، پھر الحمدللہ میں نے رفع الیدین بھی کرنا شروع کردیا، حلال و حرام کی تمیز میں بہت حساس ہوگیا، اور صحیح مسلک کو اپنا لیا، تب سے میرا دل اپنے اعمال کے بارے میں مطمئن ہے کہ میرے اعمال الحمدللہ سنت رسول اور منہج صحابہ کے مطابق ہیں۔
بہرحال یہ کتاب انجینئر صاحب کی پہلی اور معرکۃ الآراء کتاب تھی، مجھے (امان اللہ عاصم) کو بھی کئی مرتبہ انجینئر ارشاد اللہ مان (رحمہ اللہ) سے شرف ملاقات حاصل رہا۔ کتاب کی آخری اور مفصل اشاعت کے سلسے میں ایک مشاورتی ملاقات کے دوران مجھے انجیئرو صاحب نے بتایا کہ اس کتاب کی پہلی اشاعت کے بعد چند ہی دنوں میں کتاب ختم ہوگئی، بعد میں مسلسل اس کتاب کو چار مرتبہ ہم نے اپنے خرچے پر خود شائع کیا۔ ان چاروں ایڈیشنز میں یہ کتاب کم و بیش چھے ہزار کی تعداد میں چھپ چکی تھی۔ تب اس کتاب کے صفحات 263 تھے۔ اس کے بعد لاہور کے معروف مکتبہ نے اس کتاب کو شائع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو میں نے انھیں شائع کرنے کی اجازت اس شرط پر دی کہ اس کا ایک حرف بھی تبدیل نہ کیا جائے۔ چنانچہ (مکتبہ اسلامیہ لاہور) نے اپنے ذیلی ادارے:نعمان پبلیکیشنز لاہور، کی جانب سے 2005ء میں اس کتاب کو نئے ٹائٹل اور نئے نام “تلاش حق” کے ساتھ 285 صفحات میں شائع کیا۔ یہ اس کتاب کی پانچویں اشاعت یعنی پانچواں ایڈیشن تھا جو کہ ایک محدود معاہدے کے تحت شائع کیا گیا تھا۔ چونکہ ملک بھر کے اہل حدیث علماء و شیوخ کا ٹیلی فونک رابطہ اور ملاقاتوں کا سلسلہ چل رہا تھا، اسی دوران ایک موقع پر ملاقات میں محترم المقام حافظ عبدالسلام بھٹوی (رحمہ اللہ) نے فرمایا کہ اس کتاب کو ہم جماعت کے ادارے کی طرف سے شائع کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے ان کے حکم پر انھیں اجازت دے دی، لیکن طباعتی حقوق اپنے نام ہی رکھے۔ چنانچہ انھوں نے دارالاندلس کے پلیٹ فارم سے اس کتاب کو مزید تحقیق و تخریج سے مزین کر کے تلاش حق کے نام سے ہی عمدہ صورت میں 663 صفحات میں شائع کیا۔ جس سے اس کتاب کی مانگ مزید بڑھ گئی، بیرون ملک سے بھی کئی احباب نے مجھ سے یہ کتاب کثیر تعداد میں منگوائی۔
دارالاندلس کی جانب سے اشاعت کے بعد تو یہ کتاب وہاں وہاں بھی پہنچ گئی، جہاں پہلے نہ پہنچ سکی تھی، لہذا اس کتاب کو لے کر بریلوی مکتب فکر میں بے چینی اور ہلچل مزید بڑھ گئی۔ حکومتی سطح پر بھی اس کتاب کو بین کرنے اور اس کے مؤلف کا قلم روکنے کی استدعا کی جانے لگی۔ بہرحال جب کوئی بھی سرکاری تعاون میسر نہ آیا تو انجیئرت صاحب سے اکثر ملاقات کے لیے آنے اور ان کے پاس گھنٹوں بیٹھ رہنے والے ایک مذہبی ادارے کے طلبہ نے بعض شرپسندوں کے کہنے پر انجینئر صاحب پر قاتلانہ حملہ کردیا۔ جس کے نتیجے میں آپ شدید زخمی ہوگئے، البتہ جان بچ گئی۔ حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ کردیا گیا، بہت دیر تک دونوں اطراف سے تھانہ اور کچہری میں زور آزمائی کے ساتھ ساتھ احتجاجی ریلیوں اور جلوسوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ بالآخر اس معاملے کو بعض سیاسی شخصیات نے باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے ٹھنڈا کروایا۔ اس حوالے سے مزید تفصیل کا یہ محل و موقع نہیں۔
اس کے بعد اس کتاب اور اس کے مؤلف کی شہرت و مقبولیت میں ہزار چند اضافہ ہوا۔ انجینئر صاحب کے نام سے بعض مولوی اس قدر خائف تھے کہ وہ شائد نمازوں میں بھی دعائیں کرتے ہوں گے کہ یا اللہ اس بندے کے متھے نہ لگا دینا۔ ایک روز راقم الحروف (امان اللہ عاصم) نے مکتبہ رحمانیہ (اقراء سینٹر اردوبازار لاہور) کی سیڑھیوں پر ایک بہت بڑے عمامے والے مولانا صاحب کو سلام کیا، تو انھوں نے ہاتھ ملایا پھر میرا ہاتھ پکڑے رکھا اور رسمی حال احوال پوچھنے کے بعد فرمایا: کہاں سے آئے ہیں؟ میں نے کہا:میں شیخوپورہ سے آیا ہوں۔ انھوں نے بڑے نرم لہجے میں فرمایا: اسم گرامی کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: امان اللہ۔ تو مولانا صاحب کو جیسے 11ہزار کے وی کا جھٹکا لگا ہو، فوراً میرا ہاتھ چھوڑا اور سیڑھیوں سے تھوڑا دور ہٹ کر کھڑے ہوگئے اور لرزتی کپکپاتی آواز میں بولے، امان اللہ ارشاد؟ میں نے ان کے ماتھے پر پسینہ دیکھ کر ان کے خوف کو فورا زائل کرنے کی کوشش کی، کہ کہیں یہ بے چارہ پھڑک ہی نہ جائے۔ میں نے کہا:نہیں نہیں، میں امان اللہ ہوں، جن کے نام سے آپ گھبرائے ہیں، وہ ارشاد اللہ ہیں۔ اور وہ بزرگ ہیں۔ بس اتنا کہنا تھا کہ مفتی صاحب نان سٹاپ، دوسری طرف تیز تیز چل دیے۔ یقینا تھوڑا دور جاکر پانی ضرور پیا ہوگا، میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک موحد کا خوف کس قدر ان لوگوں پر طاری کیا ہوا ہے۔
قاتلانہ حملے کے بعد بریلویوں کی جانب سے “تلاش حق” کے خلاف پروپیگنڈہ مضبوط کرنے کے لیے مسخ شدہ حقائق پر مبنی بہت سا لٹریچر شائع کر کے عوام الناس میں فری تقسیم کیا گیا۔ لیکن اس کتاب کی افادیت، اہمیت اور مانگ میں ایک فیصد بھی کمی نہ آئی۔ بعدازاں اس کتاب میں مؤلف نے مزید اضافے اور بہت سے کتابی عکوس شامل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا، جس سے اس وقت اس کے سابق پبلشر نے حالات کے پیش نظر معذرت کر لی۔ پھر اس کتاب کو دارالتوحید کراچی کی جانب سے مزید بہت سے مفید اضافوں کے ساتھ “حق کی تلاش” کے نام سے 800 صفحات میں شائع کیا گیا۔
حق کی تلاش، کے بعد انجینئر صاحب نے ایک اور کتاب صرف بریلوی مکتب فکر کے نظریات اور ان کی حقیقت پر تحریر کی۔ اس کا نام “آپ کا چہرہ آپ کا آئینہ” رکھا۔ اور اسے “حق کی تلاش” کے والیم ٹو، کے طور پر دارالتوحید کراچی ہی کی جانب سے شائع کیا گیا۔ اس کے بعد ایک اور کتاب زیرتکمیل تھی، جس کے بعض صفحات مجھے (راقم الحروف، امان اللہ عاصم، کو) انجینئر ارشاد اللہ مان (رحمہ اللہ) نے دکھائے بھی تھے، وہ کتاب اہل تشیع کے عقائد و نظریات سے متعلق تھی۔ جس کا نام “رنگے ہاتھوں پکڑا گیا” رکھا تھا۔ میں نے نام پر تعجب کا اظہار کیا تو فرمانے لگے کہ جب مکمل ہوجائے گی تو نام پر مشاورت کر لیں گے۔ ۔۔۔لیکن زندگی نے ساتھ نہ دیا۔ ۔۔۔
انجیئر صاحب بڑھاپے اور فربہ جسم کے باعث اکثر صاحب فراش ہی رہے، البتہ دین کی تحریری اور محدود حلقے تک تقریری خدمات میں بھی مصروف رہے۔ قاتلانہ حملے کے بعد آپ کی حالت میں مزید خرابی آگئی۔ بالآخر 8 دسمبر 2019ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔اللھم اغفرلہ وارحمہ۔
انجینئر صاحب کی نماز جنازہ شیخوپورہ اسٹیڈیم کے ہاکی گراؤنڈ میں ادا کی گئی۔ جس میں ملک بھر سے طلبہ، علماء، کبار شیوخ اور سیاسی و مذہنی تنظیموں کے راہ نماؤں نے شرکت کی۔ نماز جنازہ، پاکستان کے معروف مذہبی راہ نما مولانا سیف اللہ خالد قصوری نے پڑھائی۔ ارشاد اللہ مان رحمہ اللہ کو ان کے آبائی گاؤں، ولگن سہیل کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔
انجینئر صاحب کی اولاد میں: چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ انجینئر صاحب کی جملہ خدمات کو قبول فرمائے اور ان کی بشری لغزشوں کو معاف فرما کر جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے۔

[تحریر: امان اللہ عاصم]

یہ بھی پڑھیں: بسنت اور پتنگ بازی، علماءِ اہل حدیث کی نظر میں