سوال 6596

سوال یہ ہے کہ ٹیپ کے ذریعے لگائے گئے بال طہارت (وضو و غسل) میں کیسے ڈیل کیے جائیں اور ان کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

دیکھیں، اگر سر پر بال پہلے سے موجود ہوں لیکن پورے یا گھنے نہ ہوں اور اس بنیاد پر کسی نے ٹیپ یا پیسٹ کے ذریعے مصنوعی بال لگوائے ہوں تو یہ طریقہ جائز نہیں ہے۔ یہ بال لگانے کا شرعی طریقہ درست نہیں سمجھا جاتا۔
البتہ اگر سر پر بال موجود ہی نہ ہوں اور جو عمل کیا جا رہا ہو وہ ہیئر ٹرانسپلانٹ کی صورت میں ہو، یعنی اپنے ہی بال اگانے یا منتقل کرنے کا طریقہ ہو، تو یہ جائز ہے۔
سوال سے بظاہر یہی سمجھ آتا ہے کہ یہ معاملہ ٹیپ کے ذریعے بال لگانے کا ہے، جو درست نہیں۔ مزید یہ کہ ایسے مصنوعی بالوں کی وجہ سے اگر پانی بالوں تک نہ پہنچے اور وہ خشک رہ جائیں تو غسل کیسے درست ہوگا؟
جہاں تک مسح کا تعلق ہے، وہاں کسی حد تک گنجائش نکالی جا سکتی ہے، لیکن غسل کے مسئلے میں یہ طریقہ شرعاً قابلِ قبول نہیں بنتا۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: شیخ صاحب ٹیپ کے ذریعے لگائے گئے بالوں کی موجودگی میں وضو کا مسح درست ہوتا ہے یا اس کے لیے انہیں ہٹانا ضروری ہے؟
جواب: میں نے کہا ہے مسح کی تو گنجائش ہم دے سکتے ہیں مسح تو سر پر ہوتا ہے عمامے پر بھی ہو جاتا ہے لیکن ایسی صورت میں غسل کا کیا بنے گا۔
غسل کی صورت میں جائز نہیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ