سوال

ہم کل چار بھائی ہیں ، 1973 عیسوی میں ہمارے والد اور چچا نے ایک دکان کی بنیاد رکھی ، تجارت چلتی رہی ، بعد میں چچا الگ ہوگئے ، 1992 عیسوی میں ہمارے بڑے بھائی تعلیم مکمل کرکے والد صاحب کے ساتھ اسی دکان کی  تجارت سے جڑ گئے ، پھر چار پانچ سال کے فرق کے ساتھ دوسرے بھائی بھی اس دکان سے جڑ گئے ، والد صاحب کے ساتھ تجارت الحمدللہ چلتی رہی ، تجارت کی ترقی میں بڑے بھائی کا اہم رول رہا ، اسی دوران ایک اور دکان کرایہ پر لے کر دو بھائی وہاں منتقل ہوگئے ۔

2013 عیسوی میں والد صاحب کا انتقال ہوگیا ، اس کے بعد ہم چار بھائیوں نے والدہ کے ساتھ مل کر ترکہ کی تقسیم مکمل کرلیا ، اس وقت والد صاحب کی ہر چیز کی قیمت لگا کر والدہ دو بہنیں اور چار بھائیوں کے مابین ترکہ تقسیم کرلیا گیا الحمدللہ ، چنانچہ دو دکانیں ہم چار بھائیوں کے قبضہ میں آگئیں ، والد صاحب کی وفات کے بعد ایک مزید دکان کا اضافہ ہوا ، الحمدللہ ، انہیں دکانوں سے ہم چار بھائیوں کا خرچہ الحمدللہ چلا آرہا ہے ،

اب سوال یہ ہے کہ بڑے بھائی کا کہنا ہے کہ مجھے 1992 عیسوی سے اب تک کا دکان سے محنتانہ چاہیے ، ہر مہینے پچاس ہزار روپے کے حساب سے 2025 تک تقریباً دو کروڑ روپے بنتے ہیں ۔ کیا بڑے بھائی یا دوسرے کسی  بھائی کا اس قسم کا مطالبہ درست ہے ؟

جواب

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!

جب تک والد زندہ تھے، دکان اور اس کا منافع شرعاً انہی کی ملکیت تھا۔ اولاد اگر والد کے کاروبار میں ہاتھ بٹاتی ہے تو وہ بطور تعاون ہوتا ہے، الا یہ کہ باقاعدہ اجرت یا شراکت کا معاہدہ طے ہو۔کیونکہ فقہی اصول ہے:

“الأصل براءة الذمة” یعنی اصل یہ ہے کہ کسی کے ذمے کوئی مالی حق ثابت نہیں ہوتا جب تک دلیل نہ ہو۔

لہٰذا اگر بڑے بھائی اور والد کے درمیان باقاعدہ تنخواہ طے ہوئی تھی یا وہ باقاعدہ شریک تھے اور نفع کا تناسب مقرر تھا اور اس پر گواہ یا تحریری ثبوت موجود ہے تو وہ اپنے حق کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

لیکن اگر ایسا کوئی معاہدہ نہیں تھا، وہ ملازم کی حیثیت سے نہیں بلکہ بیٹے کی حیثیت سے والد کے ساتھ کاروبار سنبھال رہا تھا، جس طرح دوسرے بیٹے بھی بعد میں شریک ہوگئے، اور والد اس بیٹے سمیت سارے گھر کے اخراجات بھی اٹھاتے تھے، تو والد کی وفات اور تقسیم وراثت کے بعد بیٹے کا یہ مطالبہ درست نہیں۔

اسی طرح آپ نے ذکر کیا کہ 2013ء میں والد کی وفات کے بعد تمام ترکہ کی باقاعدہ قیمت لگا کر والدہ، دو بہنوں اور چار بھائیوں میں تقسیم ہوگئی، اور اس وقت کسی نے اجرت وغیرہ کا مطالبہ نہیں کیا۔

اس لیے جب ترکہ مکمل تقسیم ہو جائے اور کوئی فریق اس وقت کوئی دعویٰ پیش نہ کرے، تو بعد میں اس طرح اجرت/ تنخواہ وغیرہ کا دعویٰ یا مطالبہ کرنا درست نہیں، کیونکہ اگر واقعی اجرت بنتی تھی تو وہ والد کے ذمے قرض شمار ہوتی اور قرض، تقسیمِ ترکہ سے پہلے نکالا جاتا۔

تقسیم کے وقت اور کچھ عرصہ بعد تک خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ انکے درمیان کوئی متعین اجرت نہ تھی۔

وراثت میں نابالغ بیٹا بھی برابر حصہ پاتا ہے، جو کاروبار میں شامل نہ ہو وہ بھی برابر کا وارث ہے، حتیٰ کہ حمل میں موجود بچہ بھی وارث ہوتا ہے۔

لہٰذا صرف یہ بات کہ بڑے بھائی نے زیادہ محنت کی، اس سے وراثت میں اضافی حصہ لازم نہیں آتا، الا یہ کہ شراکت یا اجرت کا عقد ثابت ہوتو اسکا مطالبہ درست ہوگا۔

لیکن اگر کوئی معاہدہ نہیں تھا  تو 1992ء سے 2025ء تک پچاس ہزار ماہانہ کے حساب سے دو کروڑ کا مطالبہ شرعاً درست نہیں۔

البتہ صلح اور دلجوئی کے لیے باہمی رضامندی سے اگر کچھ دے دیا جائے تو وہ احسان، نیکی اور صلہ رحمی ہوگی۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

مفتیانِ کرام

فضیلۃ الشیخ ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ محمد إدریس اثری حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ