سوال

تین بھائی ہیں جن کی شادی اکٹھی ہے اور بارات تین مختلف جگہوں پر جانی ہے جس کیلیے تین دن درکار ہیں تو کیا ایسا کیا جا سکتا ہے کہ تینوں کا ولیمہ اکٹھا چوتھے دن کردیا جائے ۔اسی طرح بعض لوگ بارات سے پہلے ولیمہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ان دونوں صورتوں کے بارے میں دلائل سے رہنمائی فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔  جزاکم اللہ خیرا

سائل :محمد خاور شفیق ساکن لاہور

جواب

الحمدلله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!

شادی کے بعد ولیمہ کرنا مسنون عمل ہے۔ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی شادی ہوئی تو آپ نے انہیں فرمایا:

“أولِمْ ولو بشاةٍ”. [صحيح البخاري:5153، صحيح مسلم:1427]

’ولیمہ ضرور کریں، چاہے ایک بکری ہی کیوں نہ ہو‘۔

البتہ اگر کسی کے پاس کوئی جانور ذبح کرنے کی استطاعت نہ ہو، تو جو میسر ہو، اسی کے ذریعے ولیمہ کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:

“أقام النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم بين خيبرَ والمدينةِ ثلاثَ ليالٍ يُبنَى عليه بصفيَّةَ، فدعوتُ المسلمينَ إلى وليمتِه، وما كان فيها مِن خُبزٍ ولا لحمٍ، وما كان فيها إلَّا أنْ أمرَ بلالًا بالأنطاعِ فبُسِطَت، فألقى عليها التَّمرَ والأقِطَ والسَّمنَ”. [صحيح البخاري:4213، صحيح مسلم:1365]

’’غزوہ خیبر کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ کے درمیان تین راتیں پڑاؤ کیا، جس میں آپ کی ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا سے شادی انجام پائی، میں نے تمام مسلمانوں کو آپ کے ولیمے کی دعوت دی، کھانے میں روٹی اور گوشت وغیرہ نہیں تھا، بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ دستر خوان بچھا دیں، اسی پر کھجوریں، پنیر اور گھی پیش کردیا گیا‘‘۔

’ولیمہ‘ “ولم” سے ہے جس کا مطلب ہے  ’جمع ہونا‘ کیونکہ یہ میاں بیوی کے اکٹھے اور جمع ہونے کی مناسبت سے کیا جاتا ہے اس وجہ سے اسے ’ولیمہ‘ کہا جاتا ہے۔ اگرچہ کھانے کے دیگر اجتماعات اور دعوتوں کے لیے بھی ولیمہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، لیکن جب یہ لفظ عموما بولا جاتا ہے تو اس سے مراد شادی کی مناسبت سے ولیمہ ہی ہوتا ہے۔ ( فتح الباری لابن حجر:9/241)

ولیمہ كے وقت میں اہل علم کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے كہ  يہ عقد نكاح كے وقت ہوگا يا پھر دخول كے وقت يا دخول كے بعد، يا كہ اس  میں وسعت ہے كہ عقد نكاح سے  لیکر شب زفاف تک كسى بھى وقت كيا جا سكتا ہے۔ ( الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ:45/249)

امام بخاری رحمہ اللہ نے اس پر باقاعدہ باب باندھا ہے  کہ ولیمہ کے ایام متعین نہیں ہیں۔ فرماتے ہیں:

«وَلَمْ يُوَقِّتِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا وَلَا يَوْمَيْنِ». [صحيح البخاري 5/ 1983]

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس پر فرماتے ہیں:

«لَمْ يَجْعَلْ لِلْوَلِيمَةِ وَقْتًا مُعَيَّنًا يَخْتَصُّ بِهِ الْإِيجَابُ أَوِ الِاسْتِحْبَابُ وَأخذَ ذَلِكَ مِنَ الْإِطْلَاقِ». [فتح الباري :9/ 242]

یعنی امام صاحب نے احادیث کے اطلاق سے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولیمہ کے لیے کوئی وقت متعین نہیں قرار دیا کہ جس  کے اندر اندر ولیمہ سر انجام دینا واجب یا مستحب ہو۔

لیکن افضل یہی ہے کہ ولیمہ رخصتى اور دخول كے بعد كيا جائے، کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ یہی ہے ، جیسا کہ اوپر انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں گزرا ہے۔

رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے عہد میں اکٹھے نکاحوں يا مشترکہ ولیموں کا ذکر  نہیں ملتا، لیکن چونکہ  ولیمہ کا مقصد نکاح کا اعلان،تشہیر اور اللہ کے  شکر کی ادائیگی ہے، یہ جس طرح الگ الگ ولیموں سے حاصل ہوتا ہے، اسی طرح اجتماعی ولیمہ سے بھی  یہ مقصد پورا  ہو جاتا ہے، لہٰذا اس میں کوئی حرج نہیں۔  کیونکہ  معاملات میں شریعت کی طرف سے اصل وسعت اور گنجائش ہے، الا یہ کہ کسی خاص پابندی کا ذکر کر دیا جائے تو اس کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔

صورتِ مسؤلہ میں سب بھائیوں کا اکٹھا ولیمہ کرنا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ ان شاءاللہ۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

مفتیانِ کرام

فضیلۃ الشیخ  ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ  عبد الحلیم بلال حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ

فضیلۃ الدکتور عبد الرحمن یوسف مدنی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ  سعید مجتبیٰ سعیدی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ  محمد إدریس اثری حفظہ اللہ