سوال
ایک مسئلہ کے بارے میں ہماری کتاب و سنت کے مطابق رہنمائی کی جائے ۔ 1994 میں ایک آدمی فوت ہو گیا اس کی وفات کے پانچ ماہ بعد اس کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ فوت ہونے والے کا ایک بھائی تھا اس نے اپنے بھائی کی ساری وراثت اپنے قبضہ میں کرلی اور کاروبار شروع کر دیا۔ 1994 میں یہ وراثت بینک میں موجود دو لاکھ اسی ہزار روپے اور ایک گاڑی تھی جس کی مالیت تقریبا ڈیڑھ لاکھ روپے تھی ۔ کل جائیداد تقریبا چار لاکھ تیس ہزار روپے تھی۔ اس نے اس ساری رقم سے کاروبار کیا جو کہ اب 2026 کو تقریبا 35 کروڑ تک پہنچ چکی ہے ۔
2004 کو اس نے اپنے بھتیجے کو مکان بنا کر دیا، جو اینٹیں اس میں صرف ہوئیں وہ فوت ہونے والے ہی کی تھیں، اور اتنی تعداد میں تھیں کہ آدھی اس نے خود اپنے مکان پہ لگائیں اور آدھی اپنے بھتیجے کے مکان پر لگائیں ۔ مزید بالکل معمولی سی رقم اس نے لگائی ، گویا جتنے پیسے مزدوری کے لگے اس سے زیادہ کی اینٹیں اس نے اپنے مکان پر لگا لیں اور اب وہ یہ کہہ رہا ہے کہ آپ کے جتنے پیسے تھے وہ سب میں نے آپ کے مکان پر لگا دیے تھے ۔
2016 کو اس نے ایک لاکھ روپیہ اپنے بھتیجے کو دیا کہ یہ گاڑی کا ہے۔ جبکہ 1994 سے وہ رقم استعمال کر رہا ہے۔
اور اسی رقم سے اب 35 کروڑ تک جائیداد پہنچ چکی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس وقت 2026 کو فوت ہونے والے کے بچے کو اس جائیداد میں سے کیا ملے گا۔اس بارے شریعت کے مطابق ہماری صحیح رہنمائی فرما دیں تاکہ جس کا جو حق بنتا ہے اس کو وہ حق ادا کیا جائے۔
جواب
الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!
1994 میں فوت ہونے والے شخص کی وفات کے وقت اگرچہ بیٹا پیدا نہیں ہوا تھا، لیکن وہ حمل میں موجود تھا، اس لیے شرعی طور پر وہ اپنے والد کا وارث قرار پاتا ہے ۔ چونکہ فوت ہونے والے کا بیٹا موجود ہے، اس لیے متوفی کا بھائی (چچا) اس کی وراثت کا حقدار نہیں تھا، کیونکہ بیٹے کی موجودگی میں بھائی محروم ہو جاتا ہے ۔
متوفی کے بھائی نے جس رقم (چار لاکھ تیس ہزار روپے) سے کاروبار شروع کیا، وہ درحقیقت اس یتیم بچے کی ملکیت تھی ۔ چونکہ یہ کاروبار یتیم کے اصل مال (رأس المال) سے شروع کیا گیا، اس لیے اس کاروبار سے ہونے والا نفع اور موجودہ جائیداد (35 کروڑ) میں اس بچے کا پورا حق بنتا ہے ۔
چچا کا یہ کہنا کہ “پیسے مکان پر لگا دیے تھے” شرعی طور پر درست نہیں، خاص طور پر جب اس نے متوفی کی اپنی اینٹیں استعمال کیں اور معمولی رقم اپنی لگائی۔چچا نے جو ایک لاکھ روپیہ یا مکان بنا کر دیا، وہ اس کل جائیداد میں سے منہا کیا جائے گا جو بچے کا حق بنتا ہے۔ چچا اس کاروبار میں اگر محنت کرتا رہا ہے تو وہ اپنی محنت کی اجرت (معاوضہ یا تنخواہ) کا مطالبہ تو کر سکتا ہے، لیکن پوری جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا ۔
لہذا یہ سارا ترکہ اور اس سے پروان چڑھنے والے کاروبار کے 8 حصے کرکے آٹھواں حصہ اس شخص کی بیوہ کو دیا جائے گا اور باقی سات حصے اس لڑکے/بیٹے کو ملیں گے۔ چچا بطورِ عامل مناسب تنخواہ کا مطالبہ کر سکتا ہے لیکن وراثت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين
مفتیانِ کرام
فضیلۃ الشیخ ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ عبد الحلیم بلال حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ
فضیلۃ الدکتور عبد الرحمن یوسف مدنی حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ محمد إدریس اثری حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ مفتی عبد الولی حقانی حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ



