سوال (2971)
کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتے ہیں؟
جواب
بوقت ضرورت عذر کی بنا پر کرسی پر نماز پڑھی جا سکتی ہے، البتہ ہمارے ہاں ایک کرسی کا فیشن چل نکلا ہے، سارا دن کام کرتے ہیں، کرسی نہیں چاہیے، مسجد میں آ کر کرسی پر نماز پڑھتے ہیں، یہ جو فیشن کے طور کرسی پر پڑھتے ہیں، ان سے کرسیاں چھین لینی چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: ایسے بھائی جو کھڑے تو ہوسکتے ہیں رکوع بھی کر سکتے ہیں لیکن سجدہ و تشہد نہیں کر سکتے تو ایسی صورت میں کچھ بھائی شروع سے کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں، کچھ قیام و رکوع کر کے کرسی پر بیٹھ کر سجدہ و تشہد پڑھ لیتے ہیں، کھڑے کھڑے مکمل نماز کے متعلق بھی بتائیں۔ درست طریقہ کونسا ہے۔
جواب: “فاتقوا اللہ ما استطعتم” کے تحت قیام اور رکوع کھڑے ہو کر کرنے کی استطاعت ہے تو وہ کھڑے ہو کر کریں گے اور سجدہ و تشہد زمین پر کرنے کی دیکت نہ ہو یا اس وجہ سے مرض کے بڑھنے کا خطرہ ہو تو اس کے لیے کرسی پر بیٹھ جانا جائیے۔
فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ
یقینا جو لوگ رکوع و قیام پر قدرت رکھتے ہیں، وہ قیام و رکوع کریں گے، ایسے لوگ آگے کھڑے ہوتے ہیں، تشھد و سجدہ کرتے ہیں تو کرسی کو پیچھے کرتے ہیں، جس سے پیچھے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے، پیچھے لوگوں کے سجدے خراب ہوتے ہیں، ایسے لوگوں کو ہمارا مشورہ ہے کہ شروع سے ہی بیٹھ کر پڑھیں تاکہ دیگر لوگوں کو تکلیف نہ ہو، حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ نے اس پر سختی کی ہے کہ یہ خلاف سنت ہے، اگر بیٹھ کر پڑھنا ہے تو شروع سے ہی بیٹھ کر پڑھیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سوال: مندرجہ ذیل سوالات کے جواب چاہیے۔
1: کیا کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتے ہیں؟
2: کیا صف کے درمیان کرسی رکھنے سے صف بندی میں خلل واقع ہو گا کہ نہیں؟
3: کیا معزوری کی حالت میں بیٹھ کر پڑھی کی نماز کے ثواب میں کمی واقع ہو گی یا نہیں؟
ان تمام سوالات کے جوابات باحوالہ بیان کر دیں۔
جواب: 1: عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی اصل زمین پر بیٹھ کر پڑھنا ہے الا یہ کہ زمین پر بیٹھنا ممکن نہ ہو یا مرض بڑھنے کا خطرہ ہو تو کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھی جا سکتی ہے۔
پھر اس کے اندر بھی جتنا قیام کی طاقت ہو تو قیام کر لے باقی بیٹھ کر نماز ادا کرے۔
2: صف کے دوران کرسی رکھ کر نماز پڑھنے کا حکم بغیر کرسی کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی طرح ہے۔ واللہ اعلم
کرسی کو ستون وغیرہ پر قیاس کر کے درمیان صف میں کرسی کو ممنوع قرار دینا محل نظر ہے۔ واللہ اعلم
3: عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھنے پر ان شاءاللہ مکمل نماز کا اجر ملے گا اس حوالے سے کئی احادیث موجود ہیں۔ واللہ اعلم
فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ
اس میں ایک چیز میں اضافہ کرنا چاہوں گا کہ پاکستان میں تو ابھی یہ چیز عام نہیں ہوئی، لیکن سعودی عرب میں فرشی ٹیک والے جائے نماز ہمیں بہ آسانی مل جاتے ہیں، اور وہ تقریباً 20 ریال سے لے کر جتنے زیادہ آپ چاہیں اچھے سے اچھا جو ہے وہ مل جاتا ہے۔ میں نے الحمدللہ اپنی مسجد کے لیے فی الحال 12 ریال کا آرڈر دیا ہے، لیے جا چکے ہیں وہاں پر، اور ان قریب ان شاء اللہ وہ یہاں پہنچ بھی جائیں گے۔
تو کرسیوں کے جگہ اگر وہ استعمال ہو جائیں تو زیادہ بہتر ہے، اس لیے کہ جب مسلح زمین پر بچھا ہوگا تو کرسی والا معاملہ نہیں ہوگا۔ باقی ظاہر بات ہے، مسئلہ اختلافی ہے کہ کرسی کا حکم ستون کا ہے یا نہیں، اگر ستون کا نہ بھی ہو، تب بھی کرسی کے وجہ سے بہت سارے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر اگر کرسی کی پچھلی ٹانگیں صف کے شروع میں رکھی جائیں، تو پھر اگر کوئی آدمی قیام یا رکوع کر سکتا ہے تو وہ صف سے آگے نکل جائے گا۔ عموماً زیادہ مشکل سجدے میں پیش آتی ہے۔ اور اگر کرسی کی اگلی ٹانگیں صف کے برابر رکھی جائیں، تو پچھلی صف والوں کو مشکل پیش آتی ہے۔
تو یہ ایک تجویز ہے، کوئی فتویٰ نہیں۔ اس پر غور و فکر کر لیا جائے۔ اگر وہ جو ٹیک والے مسلح ہیں وہ متعارف کروائے جائیں، تو امید کی جا سکتی ہے کہ ان شاء اللہ اس سے بہتر نتائج سامنے آئیں گے، اور یہ اقرب الی الحق ہوگا۔بارک اللہ فیکم۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ
سوال: اگر صف کے بیچ کوئی کرسی پر نماز پڑھ رہا ہے تو کیا اس کرسی کی وجہ سے اگلی صف ختم ہو جائے گی اور جو کرسی سے آگے اسی صف میں کھڑے ہیں ان کا آگے صف میں نماز پڑھنا درست ہے۔
جواب: اصل یہی ہے کہ نماز کھڑے ہو کر بغیر سہارے کے پڑھی جائے. لیکن جس کو عذر لاحق ہے، جس طرح وہ بیٹھ یا لیٹ سکتا ہے، اسی طرح وہ کرسی پر بالاولی بیٹھ سکتا ہے۔ معذور شخص کے نیچے بیٹھنے یا کرسی پر بیٹھنے سے صف میں کوئی خلل نہیں آتا، کرسی جہاں مرضی ہو، معذور آدمی کے لیے وہ ایسے ہی ہے، جیسے کوئی تندرست آدمی صف میں کھڑا ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
سائل: اور اگر کوئی بندہ کرسی کے بعد جگہ ہونے کے باوجود الگ اکیلا پچھلی صف میں کھڑا ہو ہو جائے تو کیا اس بندے کی نماز ہو جائے گی۔
جواب: اس کو سمجھا دیا جائے کہ اگلی صف میں جگہ ہونے کے باوجود پچھلی صف میں کھڑا ہونا جائز نہیں ہے، اور یہ کہ کرسی کی وجہ سے صف میں کوئی خلل نہیں آتا… کیونکہ وہ مغالطے اور غلط فہمی کی بنیاد پر ایسا کرتا ہے، لہذا اس کی اصلاح کر دی جائے.
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
سائل: اس کو سمجھایا بھی ہے لیکن وہ کہتا ہے کہ کرسی کے بعد صف ختم ہو جاتی ہے اور بعد میں کھڑے ہونے والے کی نماز نہیں
جواب: ایسے شخص کو اس کے حال پر چھوڑ دیں، اللہ تعالی اس کو ہدایت دے.. بس اس کو یہ بات سمجھا دیں کہ کرسی کی وجہ سے صف خراب ہو جاتی ہے یا آپ کا اپنا فہم ہے، جبکہ صف کو ادھورا چھوڑ کر پچھلی صف میں کھڑا ہونا، اس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
سائل: شیخ محترم جس حدیث میں آتا ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو اکیلے صف میں نماز پڑھتے دیکھا تو اس کو کہا نماز دہراؤ تو اس حدیث کو سامنے رکھتے ہوئے اس بندے کو نماز دہرانا ہوگی۔
جواب: ’اسلام علیکم’ صحیح لکھنا ضروری ہے.
ہم کسی ایسے اہل حدیث کو نہیں جانتے جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا منکر ہے، اہل حدیث کا موقف یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو مظلومانہ شہید کیا گیا ہے، اور جنہوں نے ان کو قتل کیا اور اس میں کسی قسم کا بھی حصہ یا شرکت کی یا تعاون کیا وہ ملعون لوگ ہیں۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَأَمَّا مَنْ قَتَلَ الْحُسَیْنَ أَوْ أَعَانَ عَلٰی قَتْلِہٖ أَوْ رَضِیَ بِذٰلِکَ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ؛ لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا.
”جس نے بھی سیدنا حسین کو شہید کیا، یا ان کی شہادت میں کسی طرح کی کوئی مدد کی، یا ان کی شہادت پر وہ کسی درجے میں خوش ہوا تو اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔ اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرضی اور نفلی عبادت قبول نہ فرمائے”۔ [مجموع الفتاوی: 4؍487]
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
سائل: اور مزید یہ بھی وضاحت فرما دیں اگر پہلی صف مکمل نہ ہو اور پیچھے دوسری صف بنا لی جائے تو کیا دوسری صف والوں کو نماز دہرانا ہوگی یہ ان کی نماز درست ہے۔
جواب: اس حوالے سے اہل علم کے دو قول ہیں، ایک تو حدیث کے ظاہر کے مطابق ہی ہے کہ ایسے شخص کی نماز نہیں ہوتی. دوسرا قول یہ ہے کہ نماز ہو جاتی ہے، لیکن اس طرح کرنا مکروہ ہے۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ




