سوال 7625

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم علماء کرام! ایک مسئلے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔ میرے تین بچے ہیں، الحمدللہ۔ میں مزید بچہ نہیں چاہتی تھی، لیکن تقریباً دو سال پہلے احتیاط کے باوجود حمل ٹھہر گیا تھا اور پھر میرا مس کیرج ہو گیا۔
اب دو سال کے بعد بہت زیادہ احتیاط کے باوجود دوبارہ حمل ٹھہر گیا ہے۔ میری عمر بھی بڑھتی جا رہی ہے اور مجھے یہ خوف رہتا ہے کہ مستقبل میں دوبارہ حمل نہ ٹھہر جائے۔ میرے شوہر بھی ملک سے باہر رہتے ہیں اور گھر کے تمام معاملات اور بچوں کی ذمہ داری مجھے ہی سنبھالنی ہوتی ہے، اس لیے میں کافی پریشان رہتی ہوں۔
میں چاہتی ہوں کہ بچوں کی پیدائش روکنے کے لیے مستقل آپریشن کروا لوں۔ مجھے معلوم ہے کہ عام حالات میں یہ درست نہیں سمجھا جاتا، لیکن موجودہ حالات اور آئندہ کی پریشانی کے پیشِ نظر کیا میرے لیے اس کی کوئی شرعی گنجائش ہو سکتی ہے؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں اور میرے لیے دعا بھی فرمائیں، کیونکہ اس حمل کے حوالے سے مجھے بہت خوف محسوس ہو رہا ہے۔
جزاکم اللہ خیرا

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بچوں کو جنم دینا عورت کی فطرت کا حصہ ہے۔ اگر یہ عورت خلافِ فطرت جائے گی تو اس میں اللہ کی ناراضگی کے ساتھ ساتھ دنیاوی نقصانات بھی بے شمار ہیں۔
یہ اپنی خوراک کا خاص خیال رکھیں، خاص طور پر اپنے ناشتے کا۔ ناشتے میں کم از کم سات کھجوریں ہوں، جنہیں کھانے کے لیے 12 سے 15 منٹ چاہئیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ کھجوریں چبائیں نہیں بلکہ چوس کر کھائیں۔ اور ساتھ، اول تو کم از کم ایک لیٹر، اگر ایک نہیں تو آدھا لیٹر گائے کا دودھ پیئیں۔
اپنی خوراک میں اچھی سبزیاں شامل کریں، جیسے کدو، ٹینڈا، کالی توری، مولی، پتوں سمیت شلجم، ٹنڈی، گاجر اور پیٹھا۔
بناسپتی کی جگہ اول تو دیسی گھی استعمال کریں، ورنہ سرسوں کا تیل یا زیتون کا تیل بہترین رہے گا۔
تو ربِ کائنات ان کو ہمت دیں گے، بشرطیکہ یہ پانچ وقت کی نماز کی پابندی کریں، صبح و شام کے اذکار، سونے جاگنے کے اذکار اور فرض نمازوں کے بعد کے اذکار کا اہتمام کریں۔
لیکن ابارشن کروانا، بچے کو ضائع کروانا شرعی طور پر بھی غلط ہے، معاشرتی طور پر بھی غلط ہے، طبی طور پر بھی غلط ہے اور نفسیاتی طور پر بھی غلط ہے۔
جب یہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ کر اس راستے پر چلیں گے تو اللہ تعالیٰ کامیابی عطا فرمائیں گے۔
رہا یہ مسئلہ کہ مجھے سنبھالنے والا کوئی نہیں، تو سنبھالنے والے تو اللہ تعالیٰ ہیں، وہی دینے والے ہیں۔ والدہ، کوئی بہن، کوئی بھابھی، کوئی بھتیجی یا کوئی بھانجی، اس کو اپنے ساتھ رکھا جا سکتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ