° بعض غم انسان کو بوڑھا کردیتے ہیں °

آج صبح آٹھ بجے کے قریب موبائل فون پکڑا، باوجود اس کے کہ چہرے پر تبسم اور ہونٹوں پہ مسکراہٹ تھی کہ آج میرا پنجاب یونیورسٹی کا آخری پیپر تھا لیکن ہوتا وہی ہے جو منظورِ خداوند ہو۔ سوشل میڈیا اوپن کرنے کی دیر تھی کہ ایک ایسی خبرِغم موصول ہوئی، جو جوان والدین کو بوڑھا کر دیتی ہو، ویر کی کمر توڑ دیتی ہو، اور بہنوں کی شرم و حیا میں نقص پیدا کر دیتی ہو………..
خبر کچھ یوں کہ مسلک اہلِ حدیث کے عظیم ترجمان، جانشین مولانا حبیب الرحمٰن یزدانی شہید، صاحبزادہ حافظ عبدالرؤوف یزدانی حفظہ اللہ کا بارہ سالہ جوان بیٹا حافظ مصعب یزدانی آج روڈ ایکسڈنٹ میں وفات پاگیا ۔۔۔۔۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
اولاد نرینہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک نعمت ہوا کرتی ہے، پھر اگر یہ نعمت اہلِ قرآن ہو تو سونے پر سہاگا والی بات ہی ہے ۔۔۔۔۔
سوشل میڈیا پر بھائی مصعب کی تلاوت اس وقت بھی سننے کو ملی جب ان کا حفظ مکمل ہوا تھا، علاؤہ ازیں ان کی تقاریر بھی سننے کو ملیں۔۔۔۔۔۔۔
میں تو کہا کرتا تھا مجھے امید ہے کہ اللہ ربّ العزّت اس بچے کو اپنے والد کا حقیقی جانشین بنائے گا لیکن کیا پتا تھا کہ یہ بیٹا والد کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ جائے گا…..
یزدانی صاحب کا وہ کلپ بھی نظروں سے گزرا جس میں یہی چھوٹا بچہ اندازِ یزدانی میں تلاوتِ قرآن کریم کررہا تھا تو اختتامِ تلاوت پر یزدانی صاحب کہنے لگے کہ: بیٹے معصب کی تلاوت سن کر مجھے اپنے بچپن کا وقت یاد آگیا۔۔۔۔۔۔۔
یزدانی صاحب کہہ رہے تھے کہ میرا یہ بیٹا دو بار نمازِ تراویح کی امامت کا شرف بھی حاصل کر چکا ہے، والدین کے لئے سب سے سعادت بھرے لمحات تب ہوا کرتے ہیں کہ جب وہ اپنی اولاد کی اقتدا میں نماز ادا کریں، پھر فخریہ انداز میں لوگوں کو بتایا کرتے ہیں کہ میں نے آج اپنے حافظ بیٹے کی پیچھے نماز ادا کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے خیال میں والدین کا سب سے بڑا صدقہ جاریہ اس کی وہ نیک اولاد ہوا کرتی ہیں جو مرنے کے بعد والدین کے لئے دعائے خیر کریں۔
جواں بیٹے کے لیے اپنے والد کا نمازِ جنازہ پڑھانا اس قدر گراں گزرتا ہے کہ انسان نمازِ جنازہ ایسے رک رک کر پڑھتا ہے کہ دیکھنے والے کو یوں محسوس ہو رہا ہوتا ہے کہ شاید امام بھول چوک کھارہا ہے، لیکن اسے کیا علم کہ آج سامنے میت کس کی ہے۔۔۔۔۔؟
لیکن وہ باپ جو صرف باپ ہی نہ ہو بلکہ استاذ اور مربی بھی حیثیت بھی رکھتا ہو، اس کے لئے اپنے اس بیٹے کی وفات کی خبر کہ صرف بیٹا ہی نہ ہو بلکہ ذہین فطین اور قابلِ فخر شاگرد بھی ہو، اس کی موت کی مثال لفظوں میں بیان کرنا گراں ہے۔۔۔۔۔۔
بھائی حافظ عثمان یزدانی (میاں چنوں) کی پوسٹ پڑھی کہ: مارچ میں حافظ صاحب ہمارے ہاں جمعہ پڑھانے آئے اور بیٹا مصعب بھی ساتھ تھا، اور والد صاحب سے الگ ہوکر مجھ سے کہنے لگا کہ۔۔۔ بابا کو بولیں کہ مجھے مدرسے میں مستقل داخل کروا دیں۔۔۔۔
یہ تو سنتے کو ملتا ہے کہ باپ کہتا ہے بچے کے دوستوں سے کہ یار اپنے دوست کو کہو مدرسہ پڑھ لو لیکن ادھر معاملہ برعکس ہے۔۔۔۔۔۔۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعة
بیٹے کی دل کی تمنا و خواہش تھی کہ والد کے مشن کو جاری و ساری رکھ سکوں ۔۔۔۔
لیکن موت کا وقت مقرر ہے جو ایک لمحہ بھر بھی آگے پیچھے نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔۔ ورنہ احسان الہٰی ظہیر اور حبیب الرحمٰن یزدانی کی ابھی جماعت کوبڑی ضرورتیں تھیں، ان کے ساتھ گلشن آباد تھا لیکن کسی کو کیا علم کہ گلاب و چنبیلی کے پھول کوبھی سدا بہار نہیں رہتی ۔۔۔۔۔۔۔۔
پھول کتنا ہی خوشبودار اور لہراتا کیوں نہ ہو آخر اس کا انجام و اختتام بھی مرجھانا ہی ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ ربّ العزّت یزدانی صاحب اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور بچے کو والدین کی نجات و بخشش کا ذریعہ بنائے۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
ان للہ ما اخذ ولہ ما اعطی وکل شیء عندہ باجل مسمی فلتصبر ولتحتسب
اعظم اللہ اجرکم و احسن عزاءکم و غفر لمیتکم

شریکِ غم: یاسر مسعود بھٹی