سوال 7677
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک سائلہ کہتی ہیں:
گھر میں بھی اور اپنی طبیعت میں بھی بے سکونی اور بے چینی رہتی ہے۔
گھر کی فضا میں بھی ہر وقت ایک عجیب سا تناؤ محسوس ہوتا ہے۔ ہر وقت لڑائی جھگڑے اور غصے کا ماحول رہتا ہے۔
رزق، صحت، گھر کی عافیت اور برکت کے لیے کوئی دعا یا عمل بتا دیں۔
جزاک اللہ خیرا
جواب
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
گھر کی فضا میں تناؤ، بے چینی اور لڑائی جھگڑے کی کیفیت کا علاج امام ابن القیم رحمہ اللہ نے اپنی ایک سے زیادہ کتابوں میں بیان کیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ گناہوں کے بھی اثرات ہوتے ہیں۔
سب سے پہلے اپنے گھر کے ماحول کا ازسرِنو جائزہ لیں کہ گھر میں کہاں کہاں شریعت کی مخالفت ہو رہی ہے، اور ان راستوں کو بند کریں۔
میں چونکہ دیہاتی ماحول سے تعلق رکھتا ہوں اور میرا تعلق بھی اسی طبقے سے ہے جو کھیتی باڑی کرتا ہے، اس لیے ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے کھیتوں کو خالص پانی لگائیں۔ اس کے لیے ہم اپنے کھالوں کے کناروں کو مضبوط کرتے ہیں، تاکہ ایک طرف پانی ضائع نہ ہو اور دوسری طرف گندا پانی ہمارے کھالوں میں داخل نہ ہو۔
اسی طرح سب سے پہلے اپنے گھر سے شیطان کو نکالیں اور اس کے داخل ہونے کے راستے بند کریں۔ گناہوں سے بچیں اور آج ہی، اسی وقت سے جائزہ لینا شروع کر دیں کہ ہمارے گھروں میں شیطان کہاں کہاں سے داخل ہو رہا ہے۔
اس کے بعد دوسرا کام یہ کریں کہ پانچ وقت کی نماز، صبح و شام کے اذکار، سونے اور جاگنے کے اذکار اور فرض نمازوں کے بعد کے اذکار کی پابندی کریں۔ خاص طور پر فجر کی نماز مقررہ وقت پر ادا کریں۔
ایک بہت اہم اور بنیادی بات یہ ہے کہ اگر گھر میں دس سال سے زیادہ عمر کا کوئی فرد فجر کی نماز کے وقت سویا رہتا ہے تو اس گھر سے نحوست کے سائے کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔
اس پر اعتراض ہو سکتا ہے کہ غیر مسلم تو دین کو مانتے ہی نہیں، پھر ان کے گھروں میں یہ کیفیت کیوں نہیں ہوتی؟ اصل بات یہ ہے کہ وہ اللہ والے ہونے کا دعویٰ ہی نہیں کرتے، جبکہ ہم کلمہ پڑھنے اور مسلمان ہونے کا دعویٰ بھی کریں اور ہمارے گھروں میں شیطان کی حکمرانی بھی ہو، تو یہ قابلِ غور بات ہے۔
صحیح حدیث میں آتا ہے کہ جس گھر میں سورۃ البقرہ کی تلاوت ہوتی ہے، اس گھر میں شیطان داخل نہیں ہوتا۔ اس پر بعض اہلِ علم نے بڑا پیارا تبصرہ فرمایا کہ شیطان داخل تو تب ہوگا جب نکلے گا، جبکہ ہمارے گھروں سے تو وہ نکلتا ہی نہیں۔
آپ خود غور کیجیے کہ جہاں تک میری آواز پہنچ رہی ہے، ہم سب اپنے اپنے گھروں کا جائزہ لیں کہ وہاں کتنی ایسی چیزیں موجود ہیں جو شیطانی ہیں۔ ہم نہ صرف انہیں جرم نہیں سمجھتے بلکہ ان پر فخر بھی کرتے ہیں۔ تین تین، چار چار لاکھ روپے کا میوزک کا سامان گھروں میں لا کر رکھا ہوا ہے۔
ظاہر ہے کہ جس گھر سے دن رات شیطانی آوازیں آئیں گی، وہاں پھر یہی صورتِ حال ہوگی۔
اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ




