سوال 7665

کچھ انشورنس کمپنیاں ہم سے انویسٹمنٹ کے طور پر سالانہ پیسہ لیتی ہیں جو کہ کچھ سالوں کے بعد منافع کے ساتھ ہمیں واپس ملتا ہے، کیا ان کو پیسہ دینا اور منافع لینا جائز ہے ؟ اور ایسی کمپنی میں جاب کرنے کا کیا حکم ہے ؟

جواب

انشورنس کمپنیاں جو منافع دیتی ہیں یہ سود ہے۔ جیسے بنک رقم جمع کروانے پر سود دیتے ہیں۔ منافع/تجارت کی باتیں صرف دھوکہ کے لیے سود کو حلال کرنے کے حیلہ کے طور پر کی جاتی ہیں۔

انشورنس کی شرعی حیثیت:

انشورنس حرام ہے۔ یہ سود و جوے کی صورت ہے۔ جیسا کہ آپنے کسی چیز کی انشورنس کے لیے لاکھ روپے جمع کروائے انشورس والوں کو اور نقصان دو لاکھ کا ہوگیا دوسری صورت ہے کہ آپنے ایک لاکھ جمع کروایا اور نقصان بیس ہزار کا ہو۔ بیان کردہ پہلی صورت میں انشورس والوں کا ایک لاکھ کا نقصان ہے اور دوسری صورت میں انشورس کروانے والے کا اسی ہزار کا۔ یہ خالص جوا اور سود ہے۔
جوکہ شرعا حرام ہے۔
[المائدہ: 90، آل عمران : 130]

جو کام حرام ہے اس میں ہر قسم کا تعاون بھی حرام ہے۔
[المائدہ: 2]
انشونس کمپنی میں ملازمت کرنا تو بلاشبہ حرام ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ