سوال 7693

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
نماز اول وقت میں ادا کرنے کی فضیلت احادیث میں بیان کی گئی ہیں
نماز کے اول کی ابتدا کا علم ہے ۔۔۔۔اول وقت کتنا ہے؟ یا کہاں تک ہے؟
وضاحت فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیرا

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہر نماز کے عمومی طور پر دو اوقات بیان کیے گئے ہیں: اول وقت اور اس کے بعد کا وقت۔ اسے ایک مثال سے سمجھ لیجیے۔
جب سورج زوال سے نکل آئے تو ظہر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ مثلاً سمجھانے کے لیے فرض کر لیں کہ ظہر کا وقت 12 بجے شروع ہوتا ہے اور عصر کا وقت 3:30 بجے شروع ہوتا ہے۔ اس طرح دونوں کے درمیان ساڑھے تین گھنٹے کا وقفہ ہے۔
اب ساڑھے تین گھنٹے کو دو حصوں میں تقسیم کریں تو ہر حصہ ایک گھنٹہ پینتالیس منٹ کا ہوگا۔ چنانچہ 12 بجے میں ایک گھنٹہ پینتالیس منٹ جمع کریں تو وقت پونے دو بجے بنتا ہے۔ اس مثال کے مطابق 12 بجے سے پونے دو بجے تک اول وقت ہوگا، اور اس کے بعد دوسرا وقت شروع ہو جائے گا۔ اس دوران 12:15، 12:30، 1:00، 1:15، 1:30 اور 1:45 بجے بھی اول وقت ہی ہوگا۔
اس کے بعد بھی نماز ادا ہو جاتی ہے، لیکن اول وقت میں نماز ادا کرنا اولیٰ اور افضل ہے۔
یہ جو گھڑیاں اور منٹ ہم نے مقرر کر رکھے ہیں، یہ ہماری سہولت کے لیے ہیں۔ اگر ایک دو منٹ آگے پیچھے ہو جائیں تو بعض لوگ کہتے ہیں کہ اول وقت نکل گیا اور وقت ضائع ہو گیا، حالانکہ اس طرح سمجھنا درست نہیں۔ نماز کا وقت وسیع ہوتا ہے اور اس میں گنجائش ہوتی ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
نماز کے اول وقت کے متعلق سوال آیا ہے۔ اس بارے میں عرض ہے کہ ہر نماز کا اول وقت الگ الگ ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر، عموماً جب ہم فجر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوتے ہیں تو کم و بیش ایک گھنٹے کے بعد سورج طلوع ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ یہاں ان لوگوں کی بات ہو رہی ہے جنہیں اللہ رب العزت نے اول وقت میں نماز ادا کرنے کی سعادت بخشی ہے۔ فجر کی اذان کے بعد اگر کم و بیش سوا گھنٹہ وقت باقی ہو تو ابتدائی آدھا گھنٹہ اول وقت ہوگا۔
بالکل اسی طرح، میں یہاں سیالکوٹ میں بیٹھا ہوں۔ ہمارے ہاں ظہر کا وقت تقریباً گیارہ بج کر 55 سے 57 منٹ کے درمیان شروع ہو جاتا ہے۔ اگر آپ سوا ایک بجے تک ظہر پڑھ لیں تو یہ اول وقت ہوگا۔
عصر کا وقت ہمارے ہاں سیالکوٹ میں تین بج کر سات منٹ پر شروع ہوتا ہے۔ اگر آپ پونے چار بجے سے پہلے پہلے عصر پڑھ لیں تو یہ اول وقت ہوگا۔
مغرب کی اذان اور عشاء کی اذان کے درمیان تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کا وقت ہوتا ہے۔ نماز پڑھنے میں پندرہ منٹ لگ جاتے ہیں، تو پیچھے سوا گھنٹہ بچتا ہے۔ اس سوا گھنٹے کے ابتدائی آدھے گھنٹے میں نماز پڑھ لیں تو یہ اول وقت ہوگا۔
عشاء کے وقت کے بارے میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف ہے۔ البتہ محتاط ترین موقف یہی ہے کہ رات کے تین حصے کیے جائیں، جن میں ابتدائی دو حصے عشاء کا وقت ہیں۔
اگر اس رائے کو مان لیا جائے تو عشاء کی نماز تو ویسے ہی تاخیر سے پڑھنا افضل ہے۔ لہٰذا میرے خیال میں اس بارے میں یہ سوال کرنا کہ عشاء کا اول وقت کون سا ہے، یہاں ضروری نہیں ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم

فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ