سوال 7676
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
علمائے کرام سے رہنمائی مطلوب ہے۔
ایک ٹی وی چینل پر ایک اہلِ حدیث عالم ٹیچرز ڈے منانے اور اس موقع پر اساتذہ کو تحائف پیش کرنے کا جواز بیان کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف دن منانے کا جو سلسلہ چل نکلا ہے، اگر انہیں دینی حیثیت سے نہ منایا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر یہ اصول تسلیم کر لیا جائے تو سالگرہ منانے والے بھی یہی کہتے ہیں کہ ہم اسے دین سمجھ کر نہیں مناتے۔ اس طرح تو بہت سے دوسرے کاموں کے جواز کی گنجائش نکل سکتی ہے۔
براہِ کرم وضاحت فرمائیں کہ ٹیچرز ڈے منانا اور اس موقع پر اساتذہ کو تحائف دینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ نیز کسی دن کو دینی حیثیت دیے بغیر منانے کے جواز کے لیے کیا اصول ہے؟
ممکن ہے کہ مذکورہ عالم کی بات میری ناقص سمجھ میں نہ آ سکی ہو اور وہ درست فرما رہے ہوں۔ اس لیے علمائے کرام سے گزارش ہے کہ صحیح شرعی رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیرا
جواب
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ٹیچرز ڈے منانے کی شرعی حیثیت اور اس کے لیے یہ کہنا کہ ہم اسے دین سمجھ کر نہیں مناتے، اس بارے میں گزارش یہ ہے کہ بہت سارے کام دین سمجھ کر نہیں کیے جاتے۔ شادیوں پر بینڈ باجا، مہندی، لمبی چوڑی بارات، پیسوں کی برسات، بے پردہ خواتین کا ویڈیو کے سامنے ناچنا گانا، سہرا بندی، دودھ پلائی اور دیگر جتنی بھی رسومات ہیں، ان کو کون دین سمجھ کر کرتا ہے؟ یہ ساری چیزیں کوئی بھی دین سمجھ کر نہیں کرتا، لیکن پھر بھی جائز نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت ان سے منع کرتی ہے۔
بنیادی بات یہ ہے کہ یہ چیزیں جن کی طرف سے آئی ہیں، وہ ضرورت سے زیادہ پریکٹیکل ہیں۔ اس جملے کو خصوصی طور پر توجہ کے ساتھ سنیے گا کہ وہ لوگ ضرورت سے زیادہ پریکٹیکل ہیں۔ ان کے ہاں ٹیچرز ڈے، فادرز ڈے، مدرز ڈے، برتھ ڈے، اینیورسری ڈے اور ویلنٹائن ڈے ہے، ان کے ہاں واٹر ڈے، پولوشن ڈے وغیرہ بھی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ میرے اور آپ کے جو اساتذہ کرام زندہ ہیں، ربِ کائنات انہیں دین و ایمان والی لمبی عمریں عطا فرمائے، اور جو دنیا سے جا چکے ہیں، ربِ کائنات ان کی قبروں کو جگمگاتا رکھے، کیا ان سب کا احترام کسی ایک دن کا محتاج ہے؟
میں اپنی بات آپ کو بتاتا ہوں۔ الحمدللہ ثم الحمدللہ، کوئی نماز ایسی نہیں گزرتی جس میں میں اپنے اساتذہ کرام کے لیے دعا نہ کرتا ہوں۔
اصل میں یہ چیزیں ان کی طرف سے آئی ہیں کہ سارا سال استاد کو پوچھو نہیں کہ وہ کس حال میں ہے، لیکن ایک دن استاد کا مناؤ اور اسے تحفے تحائف دو۔
میں ایک زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔ اگر کوئی فصل آتی ہے، کوئی پھل آتا ہے یا کوئی جنس آتی ہے تو کیا میں اپنے اساتذہ کرام کو تحفتاً اور ہدیۃً پیش کرنے کے لیے کسی دن کا انتظار کروں؟ یا اگر میرے بچے گھر میں کوئی اچھی چیز پکاتے ہیں اور میرے اساتذہ کرام مجھ سے زیادہ دور بھی نہیں کہ وہاں تک چیز پہنچانے میں مجھے کوئی خاص مشقت اٹھانی پڑے، تو کیا وہ چیز ان تک پہنچانے کے لیے میں کسی دن کا انتظار کروں گا؟ یقینی طور پر نہیں۔
لہٰذا دو باتیں ذہن میں رکھیں:
پہلی بات: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
«مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ»
جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انہی میں سے ہو گیا۔ مختلف ڈیز منانا غیر مسلم کلچر ہے، جس طرح سوال میں سالگرہ کی مثال دی گئی ہے۔
دوسری بات: جن ہستیوں کے ادب و احترام کے لیے یہ دن منائے جاتے ہیں، ان ہستیوں کا احترام کسی دن کا محتاج نہیں ہے۔ ہمارے دلوں میں اپنے اساتذہ کرام کی محبت دن رات کے چوبیس گھنٹے اور سال کے بارہ مہینے رہتی ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ




