ادب اختلاف

اب ادب اختلاف اور تنقیدی اخلاق کا بحران ہے۔ لوگ علم و نظریے کی مخالفت کو ایمان و کفر کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور جب تک اپنے مخالف کی عزت خاک میں نہ ملا دی جائے اور اس کی قرار واقعی دھجیاں نہ اڑا لی جائیں نفس امارہ کی تسکین نہیں ہوتی۔

یادش بخیر ہماری زندگی کے روشن چراغوں میں سے ایک چراغ تھے حکیم محمود احمد برکاتی؛ میں نے اپنی زندگی میں سب سے سخت علمی تنقید انھیں پر کی۔ لیکن مجال ہے کہ اس کا کوئی اثر انھوں نے دل پر لیا ہو۔ ہمارے خوشگوار روابط پر کوئی غبار ملال نہیں آیا۔ اسی طرح ہفتے میں ہماری طویل ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ حتی کہ ان کی زندگی کی آخری شب بھی ان سے میری ملاقات رہی۔ اللہ رب العزت ان کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے۔ ان کا سانحہ جدائی میرے دل کا وہ درد ہے جس کی کسک لازوال ہے۔

موجودہ دور میں حافظ محمد زبیر اور ان کے مخالفین کے مابین علمی اختلافات جس طرح اپنے اخلاقی حدود سے متجاوز ہو گئے وہ محتاج بیان نہیں۔ کچھ حافظ صاحب کے زبان و قلم میں بھی تلخی در آئی مگر مخالفین میں سے بعض نے جیسی عامیانہ و سوقیانہ زبان استعمال کی ہے وہ یقینی طور پر افسوسناک اور علمی روش کے بر خلاف ہے۔ معلوم نہیں ایسے تنگ ظرف مخالفین نے کبھی حافظ صاحب کو اپنے اس “ناقد غریب الدیار عہد” کی یاد دلائی یا نہیں جس نے حافظ صاحب پر تنقید بھی خوب کی اور ان کے احترام کو بھی اپنے قلم پر لازم رکھا۔

اور صرف اخلاقی دائرے میں رہ کر تنقید کرنا ہی کمال نہیں بلکہ اپنے معاصرین کی تنقید کو کھلے دل سے برداشت کرنا بھی اسی اخلاقی تربیت کا حصہ ہے۔ یقینا ہمارے پیارے دوست محمد احمد ترازی جو میرے ناقد پہلے بنے اور دوست بعد میں؛ اس امر کی گواہی دیں گے کہ اس باب میں بھی ہمارا سینہ تنگ نہیں۔

بہر حال اب تو تنقید کے مے خانے میں جو بھی پیتا ہے بہکتا ہے۔
گو ہر دور میں تنقیدی تحاریر کا بڑا ذخیرہ ایسا ہی رہا ہے۔ تاہم کبھی گاہے ردود و تنقید پر ایسی تحریریں بھی ملتی تھیں جو ذوق شائستگی کو جلا بخشتی تھیں۔ لیکن اب بیشتر علمی مباحثے کا نتیجہ اخلاقی زوال کی صورت میں نکلتا ہے۔ ایسے میں ان مباحث میں پڑنا اور پڑھنا دونوں کردار کو متاثر کرتے ہیں۔

اپنے دور کے نو خیز قلمکاروں کو جو شدید زعم علم میں مبتلا ہیں ہم استاد قمر جلالوی کی زبان میں بجا طور پر کہہ سکتے ہیں:

نہ جانے ساغر و مینا پہ پیمانے پہ کیا گزری
جو ہم پی کر چلے آئے تو میخانے پہ کیا گزری

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

 

یہ بھی پڑھیں:جدید فتنوں کے رد کے لیے روایتی علوم میں پختگی ضروری ہے!