سوال 7037
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا بیوی شوھر کے کہنے پر پردہ چھوڑ سکتی ہے؟ شوھر یہ کہتا ہے کہ خاندان ٹوٹتا ہے ہم رشتہ داری جوڑیں گے پردہ نہیں ہوگا!
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
دیکھیں جو پردہ شریعت نے فرض کیا ہے اسے تو کسی صورت نہیں چھوڑا جا سکتا، کیونکہ اصول یہی ہے کہ اللہ کی نافرمانی کر کے کسی مخلوق کی بات نہیں مانی جا سکتی۔ البتہ، جہاں بات اضافی احتیاط کی ہو (جیسے ہر وقت دستانے پہننا، گھر کے اندر بھی عبایہ میں رہنا یا بہت زیادہ سختی برتنا)، وہاں حالات کے مطابق تھوڑی لچک دکھائی جا سکتی ہے۔
گھر کے ماحول میں بڑی چادر استعمال کی جا سکتی ہے، جس میں ہاتھ کھلے ہوں اور ضرورت پڑنے پر چہرے کو ڈھانپا جا سکے۔ روزمرہ کے گھریلو کام کاج، سامان ادھر ادھر رکھنا، یا ضرورت کے تحت کسی غیر محرم کو سلام دعا کرنا اور بیمار کا حال پوچھنا بھی درست ہے، بس اس بات کا خیال رہے کہ اکیلے میں نہ ملا جائے اور غیر ضروری لمبی گفتگو سے پرہیز کیا جائے۔ اس طرح چیزوں کو بیلنس کرنا چاہیے۔
لیکن اگر شوہر بالکل ہی بے پردہ ہونے کی ضد کرے اور کہے کہ دوپٹہ یا چادر بھی نہ لی جائے، تو ظاہر ہے اس کی گنجائش نہیں نکلتی۔ ایسی صورت میں پہلے پیار محبت سے شوہر کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے، لیکن اگر بات حد سے بڑھ جائے اور وہ دین پر عمل میں رکاوٹ بنے، تو پھر اپنی آخرت بچانے کے لیے کوئی سخت فیصلہ کرنے میں حرج نہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




