سوال 7039
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
رکشہ والے بچوں کو سکول چھوڑنے جاتے ہیں تو ایڈوانس میں پیسے لے لیتے ہیں کیا یہ جائز ہے
پھر جب سکول سے بچوں کو چھٹیاں ہوتی ہیں تو رکشہ والے ان چھٹیوں کے بھی پیسے لیتے ہیں اور والدین دینا نہیں چاہتے جبکہ یہی والدین سکول میں بچوں کی چھٹیوں کی فیس دیتے ہیں اس بارے میں کیا رہنمائی ہو سکتی ہے
ایک رکشے والا مجھ سے اس طرح کے سوال کر رہا ہے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
دیکھیے، اصل بات یہ ہے کہ اس معاملے کا سارا دارومدار ان شرائط پر ہے جو شروع میں طے پاتی ہیں۔ اب اگر ہم اس طرح سوچیں تو ذہن میں یہ سوال بھی آ سکتا ہے کہ اتوار کو تو رکشے والا بچوں کو اسکول نہیں لے جاتا، یا کبھی بچہ بیماری، کسی تقریب یا فوتگی کی وجہ سے چھٹی کر لیتا ہے، تو کیا ان دنوں کا کرایہ دینا جائز ہوگا یا نہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ جب آپ کسی رکشے والے سے بات کرتے ہیں، تو معاہدہ پورے مہینے کا ہوتا ہے۔ اس میں یہ بات پہلے سے شامل ہوتی ہے کہ چاہے سرکاری چھٹی ہو، ہڑتال ہو جائے، رکشہ خراب ہو یا بچہ خود نہ جائے، آپ نے پورے مہینے کے پیسے دینے ہیں۔
آپ نے اپنے سوال میں خود ہی ایک بڑی پتے کی بات کہی ہے کہ جب اسکول میں چھٹیاں ہوتی ہیں تو والدین پوری فیس خوشی خوشی جمع کرواتے ہیں۔ اب دیکھیے، اسکول مالکان تو ماشاءاللہ کروڑ پتی ہوتے ہیں، جبکہ رکشے والا ایک محنت کش غریب آدمی ہے۔ جب ہم وہاں کوئی کٹوتی نہیں کرتے تو پھر اس بیچارے کے ساتھ ایسا سلوک کیوں؟
یہ ایک رواج اور طے شدہ شرط ہے کہ بچہ اسکول جائے یا نہ جائے، کرایہ پورے مہینے کا ہی دیا جائے گا۔ اس لیے اخلاقی اور اصولی طور پر آپ کو اسے پورے پیسے ہی دینے چاہئیں۔
فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ




