سوال 7038

السلام علیکم میل اور فیمیل سلون (حمام )کے کاروبار کے بارے میں کہ کیا کر سکتے ہیں؟
جزاک اللّہ

جواب

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
سب سے پہلے یہ بات ہمیشہ دل میں رکھیں کہ رزق دینے والی ذات صرف اللہ پاک کی ہے، وہی برکت ڈالنے والا ہے۔ ہمارے جو بھائی حجامت کا کام کرتے ہیں، وہ بڑی آسانی سے اپنے اس ہنر سے بالکل پاک اور حلال رزق کما سکتے ہیں۔
اس کا طریقہ بہت سادہ ہے؛ مجھے اب بھی وہ وقت اچھی طرح یاد ہے جب ہم مدینہ منورہ میں زیرِ تعلیم تھے، وہاں ایک بھائی نے اپنی دکان پر بڑے پیار سے یہ لکھ کر لگایا ہوا تھا: معذرت خواہ ہیں، یہاں داڑھی نہیں منڈی جاتی۔
آپ بھی اپنی دکان پر ایسی ہی کوئی چھوٹی سی تحریر لگا دیں کہ یہاں داڑھی نہیں منڈی جاتی اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیں کہ یہاں غیر شرعی طریقے سے بال نہیں کاٹے جاتے۔ بس ان چند باتوں کا خیال رکھ کر آپ اطمینان سے اپنا کام کریں، ان شاء اللہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اللہ کام میں برکت عطا فرمائے گا۔

فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ

سائل: السلام علیکم
اگر ایسا کریں گے تو شاید کوئی ان کے پاس جائے ہی نہ جس طرح کا ہمارا معاشرہ اور لوگ ہیں آج کل؟
جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ!
یہ محض ہماری ایک غلط فہمی ہے، اور حقیقت میں یہی تو ایمان کا امتحان ہوتا ہے کہ ہم رزق کا مالک انسانوں کو سمجھتے ہیں یا اللہ پاک کو؟
ایک مثال سے بات سمجھتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ایک بار مغرب کی نماز میں پوری سورہ الاعراف تلاوت فرمائی۔ اب اسی سنت پر عمل کرنے کے لیے سعودی عرب کے ایک امام صاحب نے ایک دن اعلان کیا کہ کل مغرب کی نماز میں ہم مکمل سورہ الاعراف پڑھیں گے، اس لیے صرف وہی لوگ آئیں جو ہمت رکھتے ہوں، جبکہ بزرگ حضرات دوسری مساجد کا رخ کر لیں کیونکہ نماز طویل ہوگی۔ آپ یقین کریں کہ اگلے دن کا منظر ہی بدل گیا، نماز سے آدھا گھنٹہ پہلے ہی مسجد پوری بھر چکی تھی!
بالکل اسی طرح، ہم سب جانتے ہیں کہ جس دکان کے بارے میں مشہور ہو جائے کہ وہاں سے خالص دودھ یا اصلی دیسی گھی ملتا ہے، وہاں تو مال بچتا ہی نہیں، لوگ لائن لگا کر کھڑے ہوتے ہیں۔ تو ذرا سوچیں، جب ایک دکاندار اللہ کے ڈر سے اپنی دکان پر یہ لکھ کر لگا دے گا کہ “یہاں سنت کے خلاف کام (جیسے داڑھی مونڈنا یا غیر شرعی حجامت) نہیں ہوتا” تو پھر کیا ہوگا؟ اللہ کے فضل و کرم سے اس کی دکان پر اتنا رش ہوگا کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے گا۔ ہمیں بس اللہ پر ویسا ہی بھروسہ کرنے کی ضرورت ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ