سوال 7737

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک شخص نے نذر مانی تھی کہ اگر میرا فلاں کام ہو گیا تو میں مسجد میں 10,000 روپے دوں گا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اس کا کام پورا کر دیا ہے، لہٰذا وہ نذر کے 10,000 روپے ادا کرنا چاہتا ہے۔
لیکن اب اس کا ایک رشتہ دار بہت محتاج ہے اور اسے بھی ان پیسوں کی سخت ضرورت ہے۔ وہ پوچھنا چاہتا ہے کہ کیا مسجد کے لیے مانی ہوئی نذر کے یہ 10,000 روپے اس محتاج رشتہ دار کو دیے جا سکتے ہیں، یا نذر کے مطابق مسجد ہی میں دینا ضروری ہے؟
براہِ کرم قرآن و حدیث اور فقہی اصول کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شرعی حکم یہ ہے کہ جس کام کی نذر مانی جائے، اسے اسی طرح پورا کرنا ضروری ہے۔ اگر مسجد میں رقم دینے کی نذر مانی گئی تھی، تو وہ رقم مسجد ہی میں دینا لازم ہے اور اسے کسی رشتہ دار یا محتاج کو نہیں دیا جا سکتا۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس نے اللہ کی اطاعت کی نذر مانی، اسے چاہیے کہ وہ اسے پورا کرے (صحیح بخاری: 6696)۔ اگر آپ اپنے محتاج رشتہ دار کی مدد کرنا چاہتے ہیں، تو اس کے لیے نذر کی رقم کے علاوہ الگ سے صدقہ و خیرات کر سکتے ہیں، جس کا الگ سے اجر ملے گا۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ