ابھی ابھی یہ خبر بجلی بن کر گری کہ متعدد علمی و تحقیقی کتب کے مصنف مناظر اسلام فضیلة الشيخ مولانا حافظ ثناء اللّٰه ضیاء رحمه اللّٰه آف فیصل آباد بھی داغ مفارقت دے گئے ہیں۔
انا للّٰه و انا اليه راجعون
مولانا رحمه اللّٰه بہت پختہ اہل علم تھے، آپ کا شمار شیخ الحدیث مولانا عبدالله ویرووالوی رحمه اللّٰه کے لائق ترین تلامذہ میں ہوتا تھا۔
وسعت معلومات ساتھ ساتھ اعلی پائے کا تحقیقی ذوق بھی رکھتے تھے۔ فضیلة الشيخ مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللّٰہ کو متعدد بار آپ کی علامت کے آپ کی علمیت کا اعتراف کرتے سنا۔ آپ کی علمیت پر آپ کی تصانیف خوب روشنی ڈالتی ہیں۔ مولانا رحمه اللّٰه کی سب سے زیادہ مشہور کتاب منکر حدیث کاندھلوی کے رد میں ” تحقیق عمر عائشہ رضی اللّٰه عنها ” کے نام سے ہے۔ اس کتاب کو اپنوں نے ہی نہیں بلکہ غیروں نے بھی تحقیق کے اعلی معیار پر قرار دیا ہے۔
” نماز میں ہاتھ کہاں باندھیں ” نامی کتاب میں بھی آپ نے خوب تحقیقی جوہر دکھائے ہیں۔
مولوی اسحاق جھالوی کی زندگی میں ہی اس کے مطبوع خطبات پر ایک نظر کے نام سے ایک تعاقب لکھ کر حجت تمام کر چکے تھے۔
معلم اخلاق کتاب آپ کی سرکاری ایوارڈ یافتہ کتاب ہے۔
حال ہی میں آپ کی بلوغ المرام اور عمدة الاحکام کی شروح طبع ہوئی تھیں ، جن کو اہل علم نے بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا تھا۔ شیخ ارشاد الحق اثری حفظه اللّٰه نے بلوغ المرام پڑھانے والے ایک مدرس کو جہاں اور عربی شروح سبل السلام وغیرہ کا مطالعہ کرنے کی تلقین کی وہیں مولانا کی شرح بلوغ المرام کو بھی دیکھنے کی تجویز دی۔
آپ جب بھی ادارہ علوم اثریہ تشریف لاتے تو بہت دیر تک شیخ ارشاد الحق اثری حفظه اللّٰه سے مختلف علمی و تحقیقی موضوعات پر گفتگو کرتے۔ سیکھنے اور سکھانے کا وافر جذبہ رکھتے تھے۔ علمی بخل ، تصنع، تکلف اور ہٹو بچو کا مرض نام کو بھی نہیں تھا۔
راقم کو مولانا رحمه اللّٰه سے فیصل آباد دوران قیام ادارہ علوم اثریہ میں ملاقات کا شرف حاصل ہوتا رہا، آپ بہت متواضع، نیک طینت، شریف النفس ، نفیس الطبع اور غایت درجہ مشفق بزرگ تھے۔ طلبة العلم پر خصوصی شفقت فرماتے تھے ، اپنے گھر ایک ملاقات کے موقع پر آپ نے اپنی تمام کتب مجھے ھدیة عنایت فرمائی تھیں۔
مولانا رحمه اللّٰه مسلک اھل حدیث کے لیے بہت غیور تھے۔
فیصل آباد آئے ابھی ان کو چند سال ہی ہوئے تھے زندگی کا بیشتر حصہ کراچی میں درس و تدریس میں گزارا تھا۔ کراچی میں مسلک اھل حدیث کی خوب خدمت کی، اہل بدعت کے ساتھ قلمی و تقریری معرکہ آرائی جاری رہی، بیشتر مناظرے کیے، ہمیشہ اللّٰه تعالیٰ نے حق کے اس سپاہی کو فتح یاب فرمایا۔
راقم کو آپ کا تعارف محترم بھائی الشیخ عمر دراز حفظه اللّٰه آف کویت کے توسط سے ہوا تھا۔ جزاہ اللّٰه خیرا کثیرا
اللّٰه تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مولانا مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ عطاء فرمائے، ان کی بشری لغزشوں سے درگزر فرما کر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے آمین۔
یکے از فیض یافتگان : رانا عبداللّٰه مرتضی السلفی




