سوال (1210)

شیخ محترم میرے پاس رہائشی گھر کے علاوہ بھی آٹھ دس پلاٹس ہیں، جو خالی پڑے ہوئے ہیں، فی الوقت نہ ان پر گھر بنانے کا ارادہ ہے اور نہ ہی انہیں بیچنے کا کوئی پروگرام ہے، مستقبل میں ہو سکتا ہے کہ اس میں بچوں کی رہائشیں بنا لی جائیں یا کرائے پر دینے کے لیے مکانات تعمیر کیے جائیں، یا کوئی فیکٹری لگا لی جائے، کیا ان پر زکاۃ ہو گی یا نہیں؟

جواب

پراپرٹی اور زمین کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں:
1۔ ایسی زمین اور پلاٹ جو ذاتی رہائشی ضروریات کے لیے استعمال ہوتا ہو۔
2۔ جو کاروبار اور تجارت کے لیے بطور آلہ اور ذریعہ کے استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ گھر بنا کر رینٹ پر دینا یا کسی زمین پر فیکٹری بنا لینا۔
3۔ کاروبار کی غرض سے یعنی بطور تجارت یا انویسٹمنٹ کے خریدا گیا پلاٹ.
پہلی اور دوسری قسم پر زکاۃ نہیں ہے، جبکہ تیسری میں زکاۃ ہے۔
صورتِ مسؤلہ میں ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ آپ کے پاس موجودہ پلاٹس کو رہائشی پلاٹس کے ساتھ ملایا جائے گا یا کاروباری اور تجارتی پلاٹس کے ساتھ؟
اس میں ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ آپ کے پاس موجود پلاٹس آپ کی رہائشی یا ذاتی ضروریات سے اضافی ہیں، اس کا حکم ’مالِ تجارت‘ والا ہی ہوگا، کیونکہ استثمار اور انویسٹمنٹ بھی تجارت کی ہی ایک صورت ہے۔
زکاۃ کا مقصد اور فلسفہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ضرورت کی اشیاء پر زکاۃ نہیں رکھی، چاہے وہ جتنی ہی قیمتی کیوں نہ ہوں، لیکن اصنافِ زکاۃ میں سے جو ضرورت سے زائد مال ہو اور اس میں بڑھوتڑی ہوتی ہو، تو اس میں زکاۃ ہوتی ہے۔
آپ کے پاس موجودہ پلاٹس میں یہ دونوں صورتیں موجود ہیں، آپ کی ضرورت سے بھی زائد ہیں اور ظاہر ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان اشیاء کی ویلیو اور قیمت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
لہذا جب تک یہ پلاٹس اس حالت میں ہیں، ان میں ہر سال زکاۃ ادا کرنی چاہیے، ہاں اگر کل کو آپ اس میں رہائش بنا لیتے ہیں، تو اس کی حیثیت تبدیل ہو جائے گی اور زکاۃ بھی ختم ہو جائے گی، اسی طرح اگر کل کو ان پر مکانات تعمیر کرکے رینٹ پر دیے جاتے ہیں یا فیکٹری لگا لی جاتی ہے تو پھر بھی اس پراپرٹی پر زکاۃ ختم ہو کر اس کی پروڈکشن اور منافع پر زکاۃ شروع ہو جائے گی۔
زکاۃ اصل میں مال کی حفاظت کے لیے ہوتی ہے، اور یہ بالکل معمولی سا حصہ ہوتا ہے، گویا اللہ تعالی ہمیں پہلے لاکھوں روپیہ عطا کرتا ہے، اور پھر اس میں اڑھائی فیصد کے حساب سے چند ہزار میں زکاۃ فرض ہوتی ہے۔

فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ