سوال 7184

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک سوال تھا کہ اگر قربانی کرنے والا اپنے بال وغیرہ کٹوا لے تو اس کی قربانی ہو جائے گی؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
قربانی تو اللہ کے ہاں قبول ہو ہی جائے گی، لیکن اس کا درجہ کیا ہوگا اور اس نافرمانی پر اللہ کا کیا فیصلہ ہوگا، یہ تو بس وہی بہتر جانتا ہے۔ ہمیں بس اس کی رحمت سے کبھی ناامید نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ وہ بہت بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے۔
“لا تقنطو من رحمۃ اللہ”

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ

وعليكم السلام و رحمة الله وبركاته
قربانی کرنے والا صحیح العقیدہ ،اخلاص و تقوی والا ہے تو اچھی امید رکھ سکتے ہیں۔
دوسرا عمل عمدا ہوا ہے تو اس پر توبہ واستغفار کا اہتمام کرنا لازم ہے کیونکہ اس نے ایک ایسا کام کیا جس سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا ۔
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے:

وَ مَا اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا

اور رسول تمھیں جو کچھ دیں تو وہ لے لو اور جس سے تمھیں روک دیں تو رک جاؤ۔ الحشر:(7)

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ