سوال 7182

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ شیخ محترم تکبیرات پڑھنے کی کیا فضیلت ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
تکبیرات پڑھنا نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا حکم ہے، اور نبی ﷺ کے حکم کو ماننے میں بے شمار فوائد ہیں۔ اس کے دلائل اپنی جگہ موجود ہیں۔

﴿وَلَذِكْرُ اللّٰهِ أَكْبَرُ﴾

اللہ کا ذکر سب سے بڑا عمل ہے۔ اس کا ایک معنی یہ ہے کہ تمہارے اعمال میں سب سے بڑا عمل ذکرِ الٰہی ہے، اور اس کے فضائل آپ کو معلوم ہیں۔ جامع ترمذی اور صحیح مسلم کا مقدمہ دیکھ لیں۔
اس کا دوسرا معنی یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کا تمہیں یاد کرنا، تمہارے اللہ کو یاد کرنے سے بھی بڑی فضیلت ہے۔

﴿فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ﴾

تم اللہ کو یاد کرو، اللہ تمہیں یاد کرتا ہے۔ یہ کتنی بڑی فضیلت ہے!
نبی علیہ السلام کا حکم ہے کہ تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے تر رہے، خشک نہ ہو۔
اسی طرح قرآن میں جگہ جگہ ذکر کی ترغیب آئی ہے:

﴿وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾

ہر عبادت نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، طواف، سعی سب کا اصل مقصد اللہ کا ذکر ہی ہے۔
ام ہانیؓ والی حدیث میں بھی ذکر کے بڑے فضائل آئے ہیں:
“سبحان اللہ” سو مرتبہ کہنے پر اولادِ اسماعیل میں سے سو غلام آزاد کرنے جیسا ثواب،
“الحمدللہ” سو مرتبہ کہنے پر اللہ کی راہ میں سو گھوڑے تیار کرنے کا ثواب،
اور “اللہ اکبر” سو مرتبہ کہنے پر سو مقبول اونٹ اللہ کی راہ میں دینے جیسا اجر ذکر کیا گیا ہے۔
یہ اللہ کا ذکر ہے، اور اس کے بڑے فضائل ہیں۔
اب یہاں تمام دلائل جمع تو نہیں کیے جا سکتے، امید ہے آپ مزید تلاش کر لیں گے۔ بارک اللہ فیک۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ