سوال 7185
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
عورت کا بذات خود گاڑی (کار وغیرہ) کی ڈرائیونگ کرنا شرعاً جائز ہے؟
قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت چاھئے۔ جزاکم اللہ خیرا
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
عورت کے لیے بوقتِ ضرورت شریعت نے کچھ حدود متعین کی ہیں۔ اگر چادر، عبایہ، پردہ اور شرعی آداب کا لحاظ رکھا جائے تو علاقائی سطح پر خروج کی گنجائش موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ضرورت کے تحت باہر نکلنے کی اجازت دی ہے۔ مثلاً: بچے کو اسکول چھوڑنا یا واپس لانا، سبزی بھاجی لے آنا، بچوں کا داخلہ کروانا، کپڑے لیتے خرید لانا یہ سب کام ہمیشہ سے ہوتے آئے ہیں۔
بلکہ گاؤں دیہاتوں میں عورتیں پٹھے وٹھے کاٹ کر لاتی ہیں، چارہ وغیرہ بھی لے آتی ہیں، تو اس نوعیت کی ضروریات میں اصل گنجائش موجود رہی ہے۔
اب اس کے لیے وہ پیدل جائے، یا کسی سواری جیسے خچر، گھوڑے، گدھے کو اختیار کرے، یا موجودہ دور میں اسکوٹی، بائیک یا کار استعمال کرے تو علاقائی سطح پر، ضرورت اور شرعی حدود کے ساتھ، گنجائش موجود ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




