سوال 7106

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
علماء سے درج ذیل تین سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
۱۔ خودکشی کی وعید: خودکشی کرنے والے کے لیے شرعی حکم اور وعید کیا ہے؟ نیز کیا ایسا شخص اپنی مقررہ زندگی سے پہلے موت کو گلے لگا لیتا ہے یا اس کی زندگی اتنی ہی لکھی ہوتی ہے؟
۲۔ نشہ آور انجکشن کا گناہ: کیا انجکشن کے ذریعے نشہ کرنا بھی شراب اور چرس کی طرح گناہِ کبیرہ ہے؟ نشے کی تمام اقسام کی شرعی حیثیت اور وعید واضح کریں۔
۳۔ نشے سے موت: کیا نشے کی زیادتی یا اس کے مسلسل استعمال سے ہونے والی موت بھی خودکشی کے زمرے میں آتی ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
شریعت اس بارے میں بڑی واضح ہے کہ خودکشی کرنے والا در اصل اللہ کے فیصلے پر راضی نہیں ہوتا اور وہ اپنی زندگی ختم کرنے کا قدم خود اٹھاتا ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ انسان جس چیز کے ذریعے خودکشی کرے گا، جہنم میں اسے اسی چیز کے ساتھ سزا دی جائے گی، چاہے وہ پستول ہو، خنجر ہو یا زہر، اسی لیے شریعت میں ایسے شخص کے لیے سخت وعید آئی ہے اور ہم بھی بس اسی حد تک بیان کرتے ہیں۔
کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ اگر نشہ انجکشن کے ذریعے لیا جائے تو کیا حکم ہے؟ تو بھائی، نشہ چاہے کسی بھی طریقے سے کیا جائے، وین میں لگایا جائے، مسلز میں دیا جائے، سونگھ کر، چبا کر یا پی کر، اگر وہ چیز نشہ آور ہے تو وہ حرام ہی ہے۔ جو حکم کھانے پینے کا ہے، وہی انجکشن کے ذریعے لینے کا بھی ہے۔
درحقیقت، نشہ کرنا بھی خودکشی کی ہی ایک قسم ہے، بس فرق یہ ہے کہ یہ ‘سلو پوائزن’ یعنی آہستہ آہستہ مارنے والا زہر ہے۔ ایک انسان وہ ہے جو خود کو فوراً ختم کر لیتا ہے، اور دوسرا وہ جو ایسی چیزیں استعمال کرتا ہے جو اسے دھیرے دھیرے موت کی طرف لے جاتی ہیں۔ انجام کے اعتبار سے دونوں ایک ہی بات ہے اور یہ بھی خودکشی ہی کہلائے گی۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے: “اپنے دشمنوں سے لڑو مگر اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو۔” یعنی جانتے بوجھتے اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا سراسر غلط ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ