سوال 7054
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ میت کو غسل دینے سے پہلے اگر وضو کر لیا جائے تو بعد میں کرنا پڑے گا ہمارے ہاں پہلے کرتے ہیں بعد میں نہیں؟ میت کو غسل دینے کے بعد غسل کرنے کے متعلق بتائیں کونسا عمل واجب ہے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میت کو غسل دینا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے، جس میں صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اب دیکھا جائے تو عقل یہی کہتی ہے کہ غسل دینے کے بعد ہی وضو کرنا زیادہ بہتر ہے۔ بہت سے فتاویٰ میں بھی یہی بات ملتی ہے کہ غسل دینے والے پر نہانا تو فرض نہیں ہوتا، لیکن ہاں، وضو کر لینا ایک اچھی اور مستحب بات ہے۔
سمجھ سے باہر ہے کہ پہلے وضو کرنے کا رواج کیوں پڑ گیا ہے؟ سوچنے والی بات ہے کہ ابھی تو آپ نے میت کو غسل دینا ہے، استنجا کرانا ہے اور تمام صفائی کرنی ہے، تو ظاہر ہے کہ پانی کے چھینٹے وغیرہ بھی آپ پر پڑیں گے۔ ایسے میں کام شروع کرنے سے پہلے وضو کر لینا اور بعد میں یہ کہنا کہ “اب ہمیں وضو کی ضرورت نہیں،” کچھ خاص منطقی نہیں لگتا۔
دیکھیں، ہم کسی پر زبردستی تو نہیں کر سکتے، لیکن سمجھداری یہی ہے کہ انسان کو طہارت کا اصل اطمینان تبھی ملتا ہے جب وہ یہ سارے کام مکمل کرنے کے بعد وضو کرے۔ یہی طریقہ زیادہ مناسب اور بہتر معلوم ہوتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




