سوال 7052
السلام علیکم مفتی صاحب۔
میں ایک آن لائن فاریکس کمپنی Exness کے ذریعے ٹریڈنگ کے بارے میں شرعی رہنمائی چاہتا ہوں۔ اس میں مختلف ممالک کی کرنسیاں (جیسے ڈالر، یورو وغیرہ) آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے خریدی اور بیچی جاتی ہیں اور قیمت کے فرق سے منافع یا نقصان ہوتا ہے۔
اس کا طریقہ مختصر طور پر یہ ہے:
سب سے پہلے آدمی اپنا اکاؤنٹ بنا کر اس میں کچھ رقم جمع کرواتا ہے، مثلاً 100 ڈالر۔
پھر وہ مختلف کرنسی جوڑوں (مثلاً USD/EUR وغیرہ) میں buy یا sell کرتا ہے اور قیمت کے اوپر نیچے ہونے سے منافع یا نقصان ہوتا ہے۔
کمپنی ایک سہولت دیتی ہے جسے Leverage کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی کے پاس مثلاً 100 ڈالر ہوں تو کمپنی اسے اس سے زیادہ بڑی رقم سے ٹریڈ کرنے کی اجازت دے دیتی ہے، مثلاً 1000 ڈالر تک، تاکہ وہ بڑی ٹریڈ کر سکے۔
عام طور پر اگر ٹریڈ ایک دن سے زیادہ کھلی رہے تو اس پر کچھ اضافی چارج لیا جاتا ہے جسے Swap کہتے ہیں، لیکن بعض اکاؤنٹس میں کمپنی کہتی ہے کہ ہم یہ چارج نہیں لیں گے۔ اسے Swap Free یا Islamic account کہا جاتا ہے۔
کمپنی عام طور پر ٹریڈ پر کمیشن یا اسپریڈ کے ذریعے کمائی کرتی ہے۔
اس بارے میں چند سوالات ہیں:
1. کیا اس طرح آن لائن کرنسی کی خرید و فروخت (فاریکس ٹریڈنگ) شریعت کے مطابق جائز ہے یا ناجائز؟
2. اگر کوئی شخص ایسا Swap Free / Islamic account استعمال کرے جس میں سود نہ لیا جائے تو کیا پھر یہ ٹریڈنگ جائز ہو سکتی ہے؟
3. جو Leverage کی سہولت کمپنی دیتی ہے (یعنی کم رقم کے ساتھ زیادہ بڑی ٹریڈ کی اجازت)، کیا یہ شرعی لحاظ سے جائز ہے یا یہ قرض اور سود کے حکم میں آتی ہے؟
4. اس ٹریڈنگ میں اصل کرنسی ہاتھ میں نہیں لی جاتی بلکہ سب کچھ آن لائن اکاؤنٹ میں ہوتا ہے۔ کیا اس صورت میں شرعی قبضہ (قبضۂ حقیقی یا حکمی) حاصل سمجھا جائے گا یا نہیں؟
5. اگر کوئی شخص اس طریقے سے ٹریڈنگ کر کے منافع کمائے تو کیا یہ آمدنی حلال ہوگی یا نہیں؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
سویپ والے اکاؤنٹ تو صریح سود ہے، جو کہ درست نہیں، اسی لیے بعض کمپنیوں نے سویپ فری یا اسلامک اکاؤنٹس نکالے ہیں۔
اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ عام طور پر حقیقی ٹریڈنگ نہیں، بلکہ ڈمی یا ڈیمو اکاؤنٹس ہوتے ہیں، یعنی اس میں بیلنس وغیرہ سارا کچھ غیر حقیقی ہوتا ہے، گویا کمپنی صارف سے سو ڈالر اصلی لے لیتی ہے اور اسے ٹریڈنگ کرنے کے لیے جو بیلنس دیا جاتا ہے وہ سارا غیر حقیقی ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ سو کے بدلے میں ہزار یا لاکھ ڈالر بھی دے سکتے ہیں۔
لہذا یہ اگر سارا کچھ نقلی ہے تو دھوکہ کی ایک صورت ہے اور اگر اصلی بھی ہو ہو تو کمی بیشی کی وجہ سے واضح سود ہے۔
تفصیل سے دیکھا جائے تو اس میں اور بھی کئی قباحتیں سامنے آ سکتی ہیں۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ




