سوال 7051

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
شیخ محترم سوال ہے کہ ایلاء (بیوی سے جنسی تعلق نہ رکھنے کی قسم) کی صورت میں احناف کے نزدیک چار ماہ گزرنے پر ایک طلاقِ بائن خود بخود واقع ہوجاتی ہے۔ اس کے برعکس اہل حدیث کا موقف ہے کہ چار ماہ کی مدت ختم ہونے پر طلاق خود بخود واقع نہیں ہوتی، بلکہ حاکمِ وقت یا قاضی شوہر کو رجوع کرنے یا طلاق دینے پر مجبور کرے گا؛ اگر وہ دونوں سے انکار کرے تو قاضی نکاح فسخ کر سکتا ہے؟
قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ کی قسم کے بعد کوئی کفارہ نہیں دیا اور نہ ہی طلاق شمار کی تھی۔
قسم کی مدت پوری ہونے پر نارمل روٹین کا تعلق قائم کیا تھا۔
قسم تعلق کی مقررہ مدت پر ہے نہ کہ طلاق پر نہ بائن ہوتی نہ رجعی۔ مقررہ مدت سے پہلے تعلق بحال کرے گا تو قسم کا کفارہ دے گا۔ واللہ اعلم

فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ