سوال 7048
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر کوئی شخص 10 ہزار روپے کا کوپن بنا کر کہے کہ تم اس سے اتنی دوائی لے لو، ہم تمہیں مری کی سیر پر لے جائیں گے۔ وہ تمام 10-20 لوگوں سے ایک ہی وعدہ کرتا ہے کہ انہیں دوائی ملے گی اور سفر کا خرچہ بھی اس میں ہو جائے گا، مطلب میں نے 10،000 روپے کی دوا کسی کو بیچی، مجھے وہ پیسے مل گئے اور اب میں انہیں ٹرپ پر بھی لے جاتا ہوں۔ کیا اسلام کے مطابق ایسا کرنا جائز ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
اس طرح کے فائدے یا اسکیم میں شرعی طور پر کوئی برائی نظر نہیں آتی۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کوپن کس مقصد کے لیے ہے اور اس کی نوعیت کیا ہے؟
عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ جیسے کسی نے دودھ کی نئی دکان کھولی اور گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیے ایک کلو دودھ کے ساتھ ایک کوپن دے دیا، تاکہ بعد میں قرعہ اندازی کے ذریعے انعام نکالا جا سکے۔ اب یہاں اہم نکتہ یہ ہے کہ دکاندار دودھ کی قیمت وہی لے رہا ہے جو مارکیٹ میں چل رہی ہے، یعنی اس نے کوپن کے نام پر دودھ مہنگا نہیں کیا۔
ایسی صورت میں یہ کوپن محض ایک اضافی بونس یا ایک گفٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ چونکہ دکاندار صرف اپنے گاہک بڑھانے کے لیے ایک ترغیبی پالیسی اپنا رہا ہے اور خریدار کا بھی کوئی نقصان نہیں ہو رہا، اس لیے اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور اسے جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




