تمام مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے لیے ’دشمن‘ نہیں ’سہولت کار’ بنیں!
فضيلة الشیخ ابن باز رحمہ اللہ اور فضيلة الشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کا کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض لوگوں کے ہاں اپنی جماعت اور مسلک سے ہٹ کر کسی اور مسلمان کی اچھی بات کو لینا یا اس کی کسی اچھی بات کا دفاع کرنا، درست نہیں، اور اسے وہ ’سہولت کاری‘ کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اسی طرح اس قسم کا موقف رکھنے والوں کو طنزیہ طور پر ’مسلک صلحِ کل‘ کہا جاتا ہے۔
حالانکہ قرآن وسنت اور منہجِ سلف کے مطابق درست طریقہ یہی ہے کہ اتحاد و اتفاق کو فروغ دیا جائے، حق بات کی تائید کی جائے، غلو سے بچا جائے، اور غلط بات کی تردید میں مبالغہ آرائی کی بجائے عدل و انصاف کے ساتھ اصلاح کی جائے۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فالجماعة التي ترى أنها أقرب إلى الحقِّ وأقرب إلى الهدى تلزمها وتُعينها، ولو كان فيها نقصٌ، ولو كان فيها أخطاء، تُعينها على الصواب، وتُرشدها إلى الخطأ؛ لأنها جماعة مسلمين، جماعة من المسلمين.
أما إن كانت جماعةً كافرةً: تدعو إلى الباطل، وتدعو إلى خلاف القرآن والسنة، وتدعو إلى غير الدين، لا، حاربها، لا تكن معها، لكن ما دام أنها تدعو إلى الإسلام: كجماعة الإخوان المسلمين، وجماعة أنصار السنة، والجماعات التبليغية، أو غيرهم من الجماعات التي تدعو إلى الإسلام وتقيم الدعوة إلى الإسلام، وتقول: إنها مسلمة، فالواجب أن تُساعدها على الخير، وأن تُرشدها إلى ما عندها من الباطل، وأن تكون أنت وإخوانك عونًا لها على الخير، وعونًا لها على ترك الباطل، حتى لا تهدموها في حقِّها وباطلها، بل تهدم الباطل وترفع الحقَّ، ولا تكونوا إرْبًا على إخوانكم، تُعادونهم، وتُشنعون عليهم لأجل بعض الباطل، وأنت عندك من الباطل أيضًا شيءٌ، ولكن تُعينهم على ما عندهم من الحقِّ، وتجتهد في صفاء القلوب والتأليف بين الجماعات المسلمة، وبما عندها من الحقِّ حتى تثبت عليه، وبيان ما عندها من الباطل حتى تتركه بالدليل، بالأدلة، والتفاهم، والأسلوب الحسن، والنفس الطيبة، لا بالعنف والشدة، هكذا ينبغي.
فالإخوان المسلمون عندهم نقصٌ، وجماعة التبليغ عندها نقصٌ، وجماعة أنصار السنة عندهم نقصٌ، وهكذا، ما أحد عنده الكمال من كل الوجوه، فلا بد من التعاون على الخير، ولا بدّ من الصبر، ولا بدّ من الحكمة، والأسلوب الحسن، وسعة البال، وانشراح الصدر، لا يكون الإنسانُ ضيق العطن عنيفًا في كلامه مع إخوانه؛ فيعود الجميع إلى الشَّحناء والعداوة، لا، بل يكون عنده اللُّطف ورحابة الصدر، والتأمل والتحمّل، وإرشاد الناس إلى الخير، وتثبيتهم عليه، وإرشادهم إلى ما عندهم من الباطل وتحذيرهم منه بالأسلوب الحسن، هكذا ينبغي لك أيها المؤمن، وأيها الطالب، أينما كنت: في مصر، في الشام، في الهند، في باكستان، في أي مكانٍ تكن هكذا، في أي مكانٍ يمكن، مثلًا: في بلادك أو غيرها. [شريط من فتاوى الدروس المرفوعة على موقع الشيخ]
جس کا مفہوم یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
وہ جماعت جسے آپ حق اور ہدایت کے زیادہ قریب سمجھتے ہیں، اس کے ساتھ جڑے رہنا اور اس کا ساتھ دینا آپ پر لازم ہے؛ خواہ اس میں کچھ کمی یا غلطیاں ہی کیوں نہ ہوں۔ آپ درست باتوں میں ان کا ساتھ دیں اور غلطیوں پر ان کی رہنمائی کریں، کیونکہ وہ مسلمانوں کی ہی ایک جماعت ہے۔
لیکن اگر کوئی گروہ کاف*ر ہو، جو باطل کی طرف بلائے، قرآن و سنت کی مخالفت کرے اور دین کے علاوہ کسی اور چیز کی دعوت دے، تو ایسی جماعت کا ساتھ ہرگز نہ دیں بلکہ اس کا مقابلہ کریں۔ تاہم، جب تک کوئی جماعت اسلام کی دعوت دے رہی ہے جیسے اخوان المسلمون، انصار السنہ، تبلیغی جماعت یا دیگر ایسی جماعتیں جو اسلام کی طرف بلاتی ہیں، دعوتِ دین کا کام کرتی ہیں اور خود کو مسلمان کہتی ہیں تو واجب یہ ہے کہ آپ نیکی کے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹائیں اور ان کے پاس جو غلطیاں یا باطل باتیں ہیں، ان پر ان کی اصلاح کریں۔
آپ اور آپ کے بھائیوں کو چاہیے کہ ان کے لیے خیر کا ذریعہ بنیں اور باطل کو چھوڑنے میں ان کی مدد کریں، تاکہ ایسا نہ ہو کہ آپ ان کے حق اور باطل (سب کچھ) کو مٹا ڈالیں۔ بلکہ طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ باطل کو ختم کریں اور حق کو سر بلند کریں۔ اپنے بھائیوں کے خلاف دشمنی پر نہ اتریں کہ کچھ غلطیوں کی بنیاد پر ان کی تشہیر (بدنامی) شروع کر دیں، جبکہ ممکن ہے کہ کچھ غلطیاں خود آپ کے اندر بھی ہوں۔ بلکہ جو حق ان کے پاس ہے اس پر ان کی مدد کریں، اور مسلم جماعتوں کے درمیان دلوں کی صفائی اور الفت پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ جو حق ان کے پاس ہے اس پر انہیں ثابت قدم رکھیں اور جو باطل ہے اسے دلیل، باہمی مفاہمت، اچھے اسلوب اور نیک نیتی سے واضح کریں تاکہ وہ اسے چھوڑ دیں۔ یہ کام تشدد اور سختی سے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہی (نرمی کا) طریقہ مناسب ہے۔
اخوان المسلمون میں بھی کچھ خامیاں ہیں، تبلیغی جماعت میں بھی اور انصار السنہ میں بھی؛ غرض یہ کہ مکمل طور پر ہر لحاظ سے کامل کوئی بھی نہیں ہے۔ اس لیے نیکی کے کاموں میں تعاون، صبر، حکمت، بہترین اندازِ گفتگو اور وسعتِ ظرفی بہت ضروری ہے۔ انسان کو تنگ دل اور اپنے بھائیوں کے ساتھ سخت کلام نہیں ہونا چاہیے، ورنہ سب کے درمیان بغض اور دشمنی پیدا ہو جائے گی۔ اس کے برعکس انسان کو نرم خو، فراخ دل اور بردبار ہونا چاہیے، جو لوگوں کو خیر کی طرف بلائے، انہیں اس پر ثابت قدم رکھے اور جو غلطیاں ان میں ہوں، ان سے اچھے انداز میں خبردار کرے۔ اے مومن اور اے علمِ دین کے طالب علم! آپ جہاں کہیں بھی ہوں مصر، شام، ہند، پاکستان یا کسی بھی جگہ آپ کا یہی طرزِ عمل ہونا چاہیے۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ کی اس گفتگو سے وہ منہج اور طریقہ کار بالکل واضح ہے، جسے طنزیہ طور پر بعض لوگ سہولت کاری یا صلح کل قرار دیتے ہیں اور اس میں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ شیخ نے اہلِ حق کے لیے کوئی خاص ٹائٹل پر اصرار نہیں کیا، بلکہ سوڈان کی اہل سنت اور اہل حدیث اور سلفی جماعت انصار السنۃ کے بارے بھی وہی بات کہی جو دیگر جماعتوں کے بارے میں فرمائی۔
اسی حوالے سے شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے بھی ایک سوال کے جواب میں فرمایا:
“مع الأسف الشديد أنا وجدنا اليوم أن هناك جماعات اختلفت قلوبها، وصار بعضها يضلل بعضاً، بل ربما يكفر بعضها بعضاً، وتجد الإنسان يحب أن يرى عدواً حقيقة له من الكفار والمنافقين ولا يرى هذا المسلم الذي خالفه في المنهج، وهذه بلوى وهي -والله- وصمة عظيمة على مستقبل اليقظة الإسلامية, أن يكون هؤلاء المؤمنون يضرب بعضهم بعضاً، ويقدح بعضهم ببعض، وكأنهم يقولون لأهل الكفر والنفاق والإلحاد: اطمئنوا فإننا سنكفيكم، سنتمزق فيما بيننا، وسيضلل بعضنا بعضاً، ويبدع بعضنا بعضاً, وهذه مشكلة، والواجب على الجماعات الإسلامية كجماعة التبليغ ، و جمعية الإصلاح ، و جمعية التراث, و الإخوان المسلمين وغيرهم أن يكونوا أمة واحدة، وأن يجلس رؤساؤهم بعضهم إلى بعض ويبحثوا في نقط الخلاف بينهم ثم يصححوا هذا الخلاف، ما دام الهدف واحداً إن كانوا صادقين وهو القيام بشريعة الله وإعزاز دين الله، فليكونوا على مائدة واحدة. أما أن يتكلم بعضهم في بعض من وراء الجدر، وتتمزق الكلمة وتتفرق الأمة، فهذا غلط. ونأسف أن بعض الناس يستغل الشباب الصغار ليحزبهم، ثم يقول: احذروا من الجماعة الفلانية، احذروا من الشخص الفلاني، احذروا من كذا، سبحان الله! أنت تريد أن تبني أمة متفرقة متمزقة فيما بعد. فأنا أحذر جداً من هذه الجماعات التي يضلل بعضها بعضاً، وأرى أن الواجب أن نكون أمة واحدة على هدف واحد، وألا تختلف القلوب مهما اختلفت الآراء والأقوال”. [شريط قضايا منهجية مرفوع على موقع الشيخ]
شیخ رحمہ اللہ کی بات مفہوم یہ ہے کہ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہم ایسی جماعتیں دیکھ رہے ہیں جن کے دل ایک دوسرے سے جدا ہو چکے ہیں، نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ایک گروہ دوسرے کو گمراہ قرار دیتا ہے، بلکہ بسا اوقات ایک دوسرے کی تکفیر تک کی جاتی ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ ایک شخص کافروں اور منافقوں جیسے حقیقی دشمنوں کو دیکھنا برداشت کر لے گا، لیکن اس مسلمان بھائی کو دیکھنا گوارا نہیں کرے گا جس کا منہج (طریقہ کار) اس سے مختلف ہو۔
اللہ کی قسم! یہ ایک بہت بڑی مصیبت اور اسلامی بیداری کے مستقبل پر ایک گہرا داغ ہے کہ مومن ہی ایک دوسرے پر ضرب لگائیں اور ایک دوسرے پر طعن و تشنیع کریں۔ گویا وہ کفار، منافقین اور ملحدین سے یہ کہہ رہے ہوں کہ: ‘تم اطمینان رکھو، (تمہارا کام) ہم خود ہی کر دیں گے، ہم آپس میں ہی ایک دوسرے کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیں گے اور ایک دوسرے کو گمراہ اور بدعتی قرار دیتے رہیں گے’۔
یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ تمام اسلامی جماعتوں خواہ وہ تبلیغی جماعت ہو، جمعیت الاصلاح، جمعیت التراث، اخوان المسلمون یا کوئی اور ان پر واجب ہے کہ وہ ایک امت بن کر رہیں۔ ان کے سربراہوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھیں، اپنے اختلافات کے نکات پر بحث کریں اور ان کی اصلاح کریں۔ اگر ان کا مقصد واقعی ایک ہی ہے یعنی اللہ کی شریعت کا قیام اور دینِ اسلام کی سربلندی تو پھر انہیں ایک ہی میز پر اکٹھا ہونا چاہیے۔
یہ بات بالکل غلط ہے کہ دیواروں کے پیچھے بیٹھ کر ایک دوسرے کے خلاف باتیں کی جائیں، جس سے شیرازہ بکھر جائے اور امت تقسیم ہو جائے۔ ہمیں اس بات پر بھی دکھ ہے کہ کچھ لوگ چھوٹے بچوں اور نوجوانوں کو اپنے اپنے گروہوں میں بانٹ رہے ہیں اور پھر ان سے کہتے ہیں: ‘فلاں جماعت سے بچو، فلاں شخص سے ہوشیار رہو، فلاں چیز سے دور رہو’۔ سبحان اللہ! کیا آپ ایسی امت بنانا چاہتے ہیں جو مستقبل میں منتشر اور ٹکڑے ٹکڑے ہو؟
چنانچہ میں ان جماعتوں سے سخت خبردار کرتا ہوں جو ایک دوسرے کو گمراہ قرار دیتی ہیں۔ میری رائے میں واجب یہ ہے کہ ہم ایک مقصد پر ایک امت بن کر رہیں اور آراء و اقوال کے اختلاف کے باوجود ہمارے دلوں میں اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔
#خیال_خاطر




