نماز کی اہمیت و ضرورت (خطبہ جمعہ)
کلمہ پڑھ لینے کے بعد سب سے بڑا اور اہم فریضہ پانچ وقت کی نماز ادا کرنا ہے۔
جو شخص اللہ وحدہ لاشریک کا اقرار تو کرتا ہے لیکن نماز نہیں پڑھتا تو ایسے شخص کو اپنے ایمان پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
توحید کا اقرار اور اللہ کو ایک ماننا کا اقرار تو مکہ کے مشرکوں کا بھی عقیدہ تھا۔
ارشادِ باری ہے۔
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ ۖ
اور یقیناً اگر تو ان سے پوچھے کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور سورج اور چاند کو مسخر کیا تو ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے،
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّن نَّزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ مِن بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُولُنَّ اللَّهُ ۚ
اور یقیناً اگر تو ان سے پوچھے کہ کس نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کر دیاتو ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے۔
آپ غور کریں کہ اللہ کو یہ کافر بھی مانتے ہیں اور آج کا مسلمان بھی مانتا ہے تو پھر ان کافروں اور آج کے بے نماز مسلمانوں میں کیسے فرق ہوگا۔؟
فرق نماز سے ہوگا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ”.
بندہ اور کفر کے درمیان حد فاصل نماز کا چھوڑنا ہے۔ [سنن ابن ماجه/
*دوسری روایت میں ہے*
(العھد الذی بیننا وبینھم الصلاة فمن ترکھا فقد کفر)
’’ہمارے اور ان کے مابین عہد نماز ہے جس نے اسے ترک کردیا اس نے کفر کیا۔‘‘( جامع الترمذی ،الایمان،باب ماجاء فی ترک الصلاۃ، ح: 2621 )
قرآن مجید کے ایک مقام پر نماز کو ایمان سے تعبیر کیا گیا ہے۔
حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تحویل قبلہ سے قبل کئی آدمی پہلے قبلے کے زمانے میں قتل ہو کر فوت ہو چکے تھے، ہمیں معلوم نہ ہو سکا کہ ہم ان کے متعلق کیا کہیں (انکی نمازیں قبول ہوں گی یا نہیں)
تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ﴾
’’اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ تمھارا ایمان ضائع کر دے۔‘‘ یعنی تمھاری پہلی نمازیں اللہ کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ [بخاری، الإیمان، باب الصلاۃ من الإیمان: ۴۰]
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نماز کو ایمان قرار دیا۔ ۔
لیکن بد قسمتی سے آج ہم جانے انجانے میں اس قدر غفلتوں کا شکار ہو گئے ہیں کہ دنوں کے دن اور مہینوں کے مہینے گزر جاتے ہیں نماز کے قریب بھی نہیں اتے۔جبکہ ایک نماز کے چھوڑ جانے پر شرعیت نے اس قدر سختی کا اظہار کیا کہ
جس نے ایک نماز جان بوجھ کر چھوڑ دی اس نے کفر کیا۔
آپ سوچیں ایک نماز ادا نا کرنے پر کافر کہہ دیا تو سوچیں جن کی ہفتوں کے ہفتے بے نمازی بن کر گزرتے ہیں انکا کیا حال ہوگا۔
خصوصی تحفہ
شرعیت کے تمام احکام وحی کے ذریعے نازل ہوئے جبکہ نماز ایک ایسی عبادت ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات بطور تحفہ پچاس نمازیں قبول کی جسے بعد میں پانچ نمازوں میںں بدل دیا تھا۔۔
آخری نصیحت
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی کے اختتام پر عین وفات کے قریب کچھ وصیتیں ارشاد فرمائی تھی،جن میں ایک وصیت نماز کے متعلق بھی تھی
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(الصَّلَاةُ الصَّلَاةُ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ)
’’(اے امت مسلمہ) نماز کی پابندی کرنا اور غلام لونڈیوں کے حقوق کی پاسداری کرنا۔
نماز پر بیعت لینا
جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر نماز قائم کرنے، زکوٰۃ دینے، اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی۔ بخاری
نمازی ہی دینی بھائی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان کا بھائی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ
فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّين۔
اب بھی اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز کے پابند ہوجائیں اور زکوٰۃ دیتے رہیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں۔ (سورہ توبہ)
آذان نہ سن کر حملہ کرنا
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی علاقہ پر چڑھائی کرتے تو آپکا معمول یہ تھا کہ
كَانَ إِذَا غَزَا بِنَا قَوْمًا لَمْ يَكُنْ يَغْزُو بِنَا حَتَّى يُصْبِحَ وَيَنْظُرَ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا كَفَّ عَنْهُمْ، وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ عَلَيْهِمْ،
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ساتھ لے کر کہیں جہاد کے لیے تشریف لے جاتے، تو فوراً ہی حملہ نہیں کرتے تھے۔ صبح ہوتی اور پھر آپ انتظار کرتے اگر اذان کی آواز سن لیتے تو حملہ کا ارادہ ترک کر دیتے اور اگر اذان کی آواز نہ سنائی دیتی تو حملہ کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 610]
یہ تمام دلائل پڑھ کر ہمیں سوچنا چاہیے کہ بے نماز شخص کو کافر۔ تک کہا ہے اور اس علاقہ پر چڑھائی کر دیتے ہیں جہاں نماز کیلئے آذان نہ ہوتی ہو۔تو ہمیں اپنے بارہ میں فکر کرنی چاہیے کہ اگر آج کے دور میں نفاذِ اسلام ہوتا تو ہمارے ساتھ کیا سلوک ہوتا۔۔۔
✍️ محمد اویس قرنی




