تعدد ازواج میں عدل سے مراد کیا ہے؟
اسلام میں تعددِ ازواج کی اجازت سورۃ النساء (آیت: 3) میں اس شرط کے ساتھ دی گئی ہے:
فانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً
“پس تم ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہیں پسند ہوں، دو، تین یا چار۔ لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ عدل نہیں کر سکو گے تو ایک ہی کافی ہے”۔
اس آیت میں تعدد نکاح کی اجازت موجود ہے مگر شرط عدل ہے۔
اب “عدل” سے مراد کیا ہے؟
علماء نے اس کی وضاحت تین درجوں میں کی ہے:
1) پہلا درجہ ظاہری عدل:
یہ وہ عدل ہے جو انسان کے اختیار میں ہے اس میں تین باتیں شامل ہیں:
١) وقت میں عدل:
دونوں بیویوں کے درمیان رات گزارنے، ملاقات، وقت دینے میں برابری۔
٢) نان و نفقہ میں عدل:
کھانے، لباس، رہائش، اخراجات، علاج معالجہ وغیرہ میں مساوات۔
٣) سفر میں عدل:
اگر شوہر کسی سفر پر جائے تو باری کی ترتیب کے مطابق بیوی ساتھ جائے گی۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
عدل واجب ہے ان امور میں جو انسان کے بس میں ہیں، جیسے رات گزارنا، خرچ، لباس، سکن وغیرہ”۔(شرح صحیح مسلم، نووی)
2) دوسرا درجہ باطنی عدل (قلبی یا جذباتی عدل):
یہ وہ عدل ہے جو دل کی کیفیت سے متعلق ہے، یعنی محبت، رغبت یا طبیعت کا میلان۔
اس میں انسان کو معاف کیا گیا ہے کیونکہ دل پر اختیار نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
” اور تم ہرگز نہ کرسکو گے کہ عورتوں کے درمیان برابری کرو، خواہ تم حرص بھی کرو، پس مت جھک جاؤ (ایک کی طرف) مکمل جھک جانا کہ اس (دوسری) کو لٹکائی ہوئی کی طرح چھوڑ دو اور اگر تم اصلاح کرو اور ڈرتے رہو تو بیشک اللہ ہمیشہ سے بےحد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے”۔ (سورۃ النساء: 129)
حافظ عبد السلام بھٹوی رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ
وَلَنْ تَسْتَطِيْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا ۔۔۔:
یعنی دو یا دو سے زیادہ بیویوں کے درمیان ہر لحاظ سے پوری پوری مساوات برتنا انسانی طاقت سے باہر ہے، کیونکہ عورتوں میں اپنی طبیعتوں، اخلاق و عادات، حسن صورت اور عمر وغیرہ میں ایک دوسری سے فرق ہوتا ہے۔
ایسی صورت میں اگر مرد کا میلان ایک کی طرف زیادہ اور دوسری کی طرف کم ہو تو یہ ایک فطری امر ہے، جس پر وہ چاہے بھی تو قابو نہیں پاسکتا۔
لہٰذا قرآن نے اس بات پر زور دیا کہ ایک سے زیادہ بیویاں ہونے کی صورت میں ایک کی طرف اس طرح جھک جانا کہ دوسری معلق (لٹکی ہوئی) ہو کر رہ جائے، گویا اس کا کوئی شوہر ہی نہیں اور نہ وہ غیر شادی شدہ ہے کہ کہیں اور نکاح کرلے، تو یہ حرام ہے، ظاہری حقوق میں عورتوں سے مساوی سلوک کیا جائے، دل کے میلان پر گرفت نہیں ہے۔ اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے:
” یا اللہ! یہ میری بیویوں کے درمیان اس چیز کی تقسیم ہے جس کا میں اختیار رکھتا ہوں ( یعنی کھانا پینا، کپڑا، سونا بیٹھنا وغیرہ) لہٰذا تو مجھے اس چیز پر ملامت نہ فرما جس کا میں اختیار نہیں رکھتا ( یعنی دلی میلان اور محبت) “۔
[ أبو داوٗد، النکاح، باب فی القسم بین النساء: ٢١٣٤۔ ترمذی: ١١٤٠ ]
3) تیسرا درجہ ازدواجی تعلق میں عدل:
فقہاء کا اتفاق ہے کہ جماع (ازدواجی تعلق) بھی باری کے اصول کے تحت ہو، یعنی جس بیوی کی رات ہے، اسی کے ساتھ تعلق ہو۔
اس میں زیادتی یا کمی ظلم شمار ہوگی۔
فقہاء کے نزدیک نزدیک اگر شوہر ایک بیوی کے پاس زیادہ وقت یا تعلق رکھے تو دوسری کو اتنا ہی موقع دینا لازم ہے۔
اب اگلا پہلو یہ ہے اثر دیکھنے میں آیا ہے کہ پہلی بیوی دوسری کے یا دوسری پہلی کے حقوق متاثر کرتی ہیں اور یہ صورت حال ہمارے پاکستانی معاشرے میں آج کل عام ہے۔
کتاب وسنت کی تعلیمات کی روشنی میں کسی بھی بیوی کو دوسرے کے حقوق میں مداخلت کی اجازت نہیں دی کیوں کہ یہ حسد، ظلم اور قطعِ رحم کے زمرے میں آتا ہے۔
پہلی بیوی کا کردار:
اگر وہ شوہر کو بچوں یا گھر کے دباؤ سے بلیک میل کرے، دوسری بیوی کو برا سمجھے، یا شوہر پر ایسا اثر ڈالے کہ وہ عدل نہ کر سکےتو وہ شرعاً گناہگار ہوگی کیونکہ وہ ایک حلال تعلق کو ناجائز بنارہی ہے۔
اس بارے ایک حدیث کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“کوئی عورت اپنی کسی ( دینی ) بہن کی طلاق کا مطالبہ ( شوہر سے ) نہ کرے کہ اس کے گھر کو اپنے ہی لیے خاص کر لینا چاہے۔ بلکہ اسے نکاح ( دوسری عورت کی موجودگی میں بھی ) کر لینا چاہئے کیونکہ اسے اتنا ہی ملے گا جتنا اس کے مقدر میں ہو گا “۔
(صحیح بخاری، 6601)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ ایک بیوی دوسری بیوی کے حق میں حسد یا مداخلت حرام ہے۔
اب اس سے اگلا پہلو یہ ہے کہ ایسی سچویشن میں شوہر کی اخلاقی و دینی ذمہ داریاں کیا ہونی چاہئیں:
شوہر چونکہ قوّام (ذمہ دار و سربراہ) ہے، اس لیے اس پر زیادہ بوجھ ہے:
الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ
“مرد عورتوں پر نگران و ذمہ دار ہیں”۔
(سورۃ النساء: 34)
شوہر کی ذمہ داریاں:
1) دونوں بیویوں کے حقوق میں عدل کرے۔
2) کسی ایک کی جذباتی یا خاندانی مداخلت میں آ کر دوسری پر ظلم نہ کرے۔
3) گھریلو اختلافات کو حکمت، صبر، اور شفقت سے حل کرے۔
4) بچوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔
5) اگر کوئی بیوی حسد یا جلن میں زیادتی کرے، تو نرمی و خیرخواہی سے اصلاح کی کوشش کرے۔کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیویوں کے لیے بہتر ہو”۔ (ترمذی، حدیث 3895)
آخری پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ اچھے اخلاق سے بات کرے، اسے تمام ظاہری حقوق کی توجہ دلائے تاکہ یہ عورت ڈپریشن سے نکل سکے۔اگر وہ شوہر اپنی اسی ضد قائم ہے تو عورت کو شریعت نے خلع کا حق دے رکھا ہے ۔۔۔
نوٹ: عدل کی بنیاد وقت، نفقہ، تعلق اور ظاہری حقوق میں مساوات ہے۔
جبکہ دل کی محبت میں فرق معاف ہے، لیکن ظاہری رویّہ متوازن ہونا چاہیے۔
✍️کامران الہی ظہیر




