خطبہ عید الاضحیٰ۔۔۔
إنَّ الْحَمْدَ لِلهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِىَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
● ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ (آل عمران: 102)
● ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ (النساء: 1)
● ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا * يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا﴾ (الأحزاب: 70، 71)
أَمَّا بَعْدُ: فَإِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ۔
كَذَٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ ۗ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ۔ (الحج)
✿ آج لاکھوں کی تعداد میں فرزندان اسلام تکبیرات کو بلند آواز میں پڑھتے ہوئے اللہ کی کبریائی اور بڑھائی بیان کررہے ہیں۔۔۔
اور اصل مطلوب بھی یہ ہی ہے کہ آپ اللہ کی کبریائی اور بڑھائی بیان کریں۔
اسی لئے آپ کو خاص طور پر نو ذوالحج سے تیرہ ذوالحج تک ہر نماز کے بعد تکبیرات کہلوائی ہے۔
اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ نماز عید کو عام نمازوں سے ہٹ کر اضافی بارہ تکبیرات کہلوائی،ہاتھوں کو اٹھوایا اور پھر بندھوایا۔۔۔
تاکہ دلوں دماغ میں اللہ کی کبریائی اور بڑھائی بیٹھ جائے۔۔۔
بلکہ نماز کے بعد قربانی ذبح کرتے وقت آپ نے جانور کو لٹایا وہ لیٹ گیا،چھوری کو چلایا،جانور ذبح ہو گیا
یہ سب چیزوں کی تابعداری اسی لئے کی گئ تاکہ آپ اللہ کی کبریائی اور بڑھائی بیان کریں۔
ارشادِ باری ہے۔
كَذَٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ ۗ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ۔ (الحج)
اسی طرح اس نے انھیں تمھارے لیے مسخر کردیا، تاکہ تم اس پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمھیں ہدایت دی اور نیکی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دے۔۔
اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر لاالہ الااللہ اللہ اکبر اللہ اکبر وللّٰہ الحمد
اللہ سب سے بڑا ہے اور وہ ہی عبادت کے لائق ہے۔
لہذا آج کی عید کا پیغام ہے کہ اپنا عقیدہ اور نظریہ بنا لیں کہ اللہ ہی سب سے بڑا ہے اور وہ ہی معبود برحق ہے
✿✿
جانور کو ذبح کرتے وقت جانور کی گردن پر پاؤں رکھ کر ذبح کرنا سنت ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سینگ والے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا پاؤں ان کی گردنوں کے اوپر رکھتے اور انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے۔ [صحيح البخاري: 5564]
اس سنت سے ہمیں دنیا کی بے رغبتی کا درس ملتا ہے کہ آپ کا قیمتی مال،روپے پیسہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ مَا سَقَى كَافِرًا مِنْهَا شَرْبَةَ مَاءٍ “
اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی وقعت اگر ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافر کو اس میں سے ایک گھونٹ پانی بھی نہ پلاتا“ (ترمذی 2320)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بکری کے ایک چھوٹے کانوں والے مردار بچے کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”تم میں سے کون اسے ایک درہم میں لینا پسند کرے گا؟“ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ہم تو اسے کسی معمولی چیز کے بدلے میں لینا بھی پسند نہیں کرتے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ کی قسم! اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے جتنا یہ (بکری کا مردہ بچہ) تمہارے نزدیک حقیر ہے۔ “ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5157]
✿✿✿
عید کے موقع پر خاص طور پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کو صدقہ و خیرات کا حکم دیتے۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا, قَالَ:” خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلُ وَلَا بَعْدُ، ثُمَّ مَالَ عَلَى النِّسَاءِ, وَمَعَهُ بِلَالٌ فَوَعَظَهُنَّ, وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْقُلْبَ وَالْخُرْصَ”.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نکلے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عیدگاہ میں) دو رکعت نماز پڑھائی۔ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کی طرف آئے۔ بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعظ و نصیحت کی اور ان کو صدقہ کرنے کے لیے حکم فرمایا۔ چنانچہ عورتیں کنگن اور بالیاں (بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں) ڈالنے لگیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1431]
✍️ محمد اویس قرنی




