روزے کب افطار کریں؟

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے

ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيۡلِ‌ۚ (سورۃ البقرة)

اب اہل علم میں جو محل اختلاف ہے وہ لفظ ” لیل” یعنی رات کا ہے کہ روزہ رات تک پورا کرو۔

اب اس رات سے کونسا وقت مراد ہے اور اس کا آغاز اس کی ابتدا کب ہوتی ہے اس بارے ہمیں اہل لغت سے دریافت کرنا چاہیے۔

لغت کی سب سے بڑی کتاب لسان العرب میں لیل کی تعریف درج ذیل ہے:
اللیلُ: مِن غُروبِ الشمسِ إلى طلوعِ الفجرِ الصادقِ
“رات” سورج کے غروب ہونے سے لے کر فجرِ صادق کے طلوع ہونے تک کے وقت کو کہتے ہیں۔
(لسان العرب مصنف ابن منظور)

(مادہ: ليل):

اللَّيْلُ: خلافُ النَّهارِ، وهو من غروبِ الشَّمسِ إلى طلوعِ الفجرِ الصَّادقِ.

ترجمہ: لیل، نہار کی ضد ہے، اور یہ غروبِ آفتاب سے طلوعِ فجرِ صادق تک ہوتا ہے۔
(تاج العروس مصنف: مرتضیٰ الزبیدی)

اب اس کے ساتھ اہل تشیع کے معتبر حوالہ جات پیش خدمت ہیں:
مفسر طبرسی “لیل” کے بارے میں لکھتے ہیں کہ
سورج غروب ہونے سے لے کر اگلی طلوع فجر تک کا وقت “لیل” رات ہے۔
(مجمع البیان فی تفسیر القرآن جلد 1 صحفہ 146)
معتبر ذاکر مُلاباقر مجلسی لکھتے ہیں
سورج غروب ہونے سے لے کر طلوع فجر تک کا وقت اللیل رات ہے۔
(بحارُ الانوار جلد 80 صحفہ 76)

شیعہ مفسر حسین بخش لکھتے ہیں۔
لیل سے مُراد غروب شمس کا یقین ہے علماء نے اس کی علامت مشرق کی سُرخی کا دور ہونا بیان فرمایا ہے اگر مشرق کی سُرخی پوری طرح زائل نہ ہوئی ہو اور غروب شمس کا یقین ہو تو افطار جائز ہے۔
(تفسیر انوارِ نجف جلد 2 صحفہ 238)

شیعہ کتب میں نبیﷺ سے افطاری کا کیا وقت منقول ہے۔

شیعہ ذاکر عاملی نقل کرتے ہیں۔

سیدنا محمد باقرؒ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا جب سورج کا گولہ چھپ جائے (یعنی غروب ہو جائے) تو روزہ دار افطار کر سکتا ہے“۔

(وسائل الشیعة (عربی) جلد 4 صحفہ 179)
(وسائل الشیعة (اردو) جلد 3 صحفہ 123)

ان تمام دلائل سے یہ بات واضح ہے کہ قرآن نے جو لیل رات تک پورا کرنے کا کہا اس سے مراد غروب شمس ہے یعنی جیسے ہی سورج غروب ہو جائے روزہ افطار کرنا چاہیے اس بارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا عمل اور دیگر صحابہ کی جماعت کا عمل موجود ہے۔

✍️ کامران الہی ظہیر