کمالِ اخلاق
’’کمالِ اخلاق یہ ہے کہ انسان اپنی زبان کی حفاظت کرے اور اپنے الفاظ کو شریعت اور حکمت کے میزان پر تول کر ادا کرے؛ کیونکہ ایک لفظ انسان کے مقام کو بلند بھی کر سکتا ہے اور اسے گرا بھی سکتا ہے، اور دلوں پر ایسا نقش چھوڑ جاتا ہے جو مٹایا نہیں جا سکتا۔
مزاح، اگرچہ بظاہر ہلکا اور بے ضرر محسوس ہو، بسا اوقات دل آزاری کا سبب بن جاتا ہے اور اگر اس میں حیا اور موقع و محل کی رعایت نہ ہو تو انسان کی وقعت بھی گھٹا دیتا ہے۔
انسان کی پختگی اور بلوغِ فکری کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کی عزت و منزلت کا محافظ رہے، خواہ وہ سامنے ہوں یا غیر حاضری میں؛ گفتگو کو ان کی تحقیر کا ذریعہ نہ بنائے بلکہ ان کے لیے پردہ پوشی اور حفظِ آبرو کا وسیلہ بنے۔
مؤمن وہ ہے جو نرمیِ گفتار اور حسنِ انداز دونوں کو یکجا کرے، اور یہ جانتا ہو کہ کہاں بولنا ہے اور کہاں خاموش رہنا ہے؛ کیونکہ حکمت یہی ہے کہ ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھا جائے۔‘‘
حافظ محمد طاہر حفظہ اللہ




