سوال 7228
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
تقلید کے متعلق راہ نمائی فرمائیں۔ تقلید شخصی کا کیا حکم ہے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، اگر آپ تقلیدِ شخصی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں کہ اس کا کیا حکم ہے، تو تقلیدِ شخصی کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ: کسی ایسے شخص کی بات کو، جو پیغمبر نہ ہو، بغیر دلیل کے مان لینا اور دین میں اسے حجت قرار دے دینا۔
علامہ وحید الزماں نے القاموس الوحید میں اس کی تعریف یوں کی ہے کہ: “کسی کے پیچھے آنکھیں بند کر کے چل دینا۔”
دینِ اسلام اس طرزِ عمل کی اجازت نہیں دیتا۔ قرآنِ مجید میں ہے: “اس بات کے پیچھے نہ لگ جس کا تجھے علم نہیں۔”
لہٰذا اسلام ایسی تقلید سے روکتا ہے۔
اسی طرح یہود و نصاریٰ کی عوام بھی اپنے اکابرین اور مذہبی پیشواؤں کی اندھی تقلید کیا کرتی تھی۔ وہ جس چیز کو حلال کہتے، اسے حلال مان لیتے اور جس چیز کو حرام کہتے، اسے حرام سمجھ لیتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرزِ عمل کو ان کی عبادت قرار دیا ہے۔
حدیث میں سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ: “ہم تو اپنے علماء اور درویشوں کی عبادت نہیں کرتے تھے۔”
نبی ﷺ نے فرمایا کہ: “کیا وہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دیتے تھے اور تم ان کی بات مان لیتے تھے؟”
انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔
آپ ﷺ نے فرمایا: “یہی ان کی عبادت ہے۔”
لہٰذا ایسی تقلید، جس میں بغیر علم کے حلال و حرام کے مسائل میں کسی کی اندھی پیروی کی جائے اور انسان اپنے آپ کو مکمل طور پر کسی غیر معصوم کے حوالے کر دے، اسلام میں درست نہیں۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول بھی ہے کہ: “کوئی شخص کسی شخص کے دین میں تقلید نہ کرے۔”
اس موضوع پر مزید مطالعہ کے لیے درج ذیل کتب دیکھی جا سکتی ہیں:
دین میں تقلید کا مسئلہ – حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حقیقت و اقسام المقلدین – امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ
تقلید کے خوفناک نتائج – حافظ عبداللہ بہاولپوری حفظہ اللہ
ضربِ محمدی – مولانا محمد جوناگڑھی رحمہ اللہ، خطیب الہند
ان کتابوں کا مطالعہ کرنے سے اس موضوع کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ



