سوال 7229
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ صاحب نکاح میں والدین کا بیٹی کیلئے کچھ لکھوانا جائز ہے کیا؟ جیسے طلاق ہونے کی صورت میں کچھ رقم یا زیور۔۔۔ معاشرتی حالات آپ کے سامنے ہیں۔۔۔ ان کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر ایسا کیا جائے تو یہ جائز ہوگا۔۔۔ ؟ اگر کسی لڑکے کی پہلے شادی ہوئی تھی اس نے بیوی کو طلاق دی اور کہیں اور وه شادی کرنا چاہے گا تو ظاہر سی بات سب اچھا ہونے کے باوجود بھی لڑکی کے والدین ڈریں گو تو اس صورت میں ایسا کرنا کیا جائز ہے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، ہمارے معاشرے کے عرف میں اور ہمارے قانون میں بھی اس کی گنجائش موجود ہے کہ نکاح کے وقت ایسی شرط لکھی جا سکتی ہے جو جائز ہو، کتاب اللہ کے مطابق ہو اور کتاب اللہ کے خلاف نہ ہو۔
چنانچہ بعض اوقات ایسی شرط لکھی جاتی ہے کہ اگر شوہر بے جا پریشان کرے، بلا وجہ تنگ کرے یا ظلم و زیادتی کا مرتکب ہو تو اس پر کوئی مخصوص مالی ذمہ داری یا جرمانہ عائد ہوگا۔
اگر لڑکا اس شرط کو قبول کر لیتا ہے تو پھر اس کی پابندی لازم ہوگی۔ کیونکہ حدیث میں آتا ہے کہ: “نکاح کے موقع پر لگائی گئی شرطوں کو پورا کرنے کا سب سے زیادہ حق ہے۔”
اسی طرح حدیث میں یہ بھی ہے کہ: “مسلمان اپنی شرطوں پر قائم رہتے ہیں۔”
لہٰذا جو جائز اور شرعاً درست شرطیں ہوں، انہیں نکاح نامے میں لکھوایا جا سکتا ہے۔ ہمارے معاشرے رد میں بھی اس قسم کی شرطوں کا عرف پایا جاتا ہے اور ایسی جائز شرطیں قابلِ قبول ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ



