سوال 7226

کیا بیوی اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام لگا سکتی ہے؟ کیا علماء میں اس مسئلے پر اختلاف ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اختلافِ رائے تو ہو ہی جاتا ہے، لیکن راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ بیوی پہچان کے لیے اپنے شوہر کی طرف نسبت کر سکتی ہے۔
چنانچہ سرکاری کاغذات یا دستاویزات میں جہاں شوہر کا نام درج کرنے کا مطالبہ ہو، وہاں شوہر کا نام ہی لکھا جائے گا۔ مثلاً شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات میں اگر خانہ موجود ہو کہ “شوہر کا نام درج کریں” تو ظاہر ہے وہاں شوہر ہی کا نام لکھا جائے گا۔
قرآنِ مجید میں بھی عورتوں کو ان کے شوہروں کی طرف منسوب کیا گیا ہے، جیسے: امرأۃ نوح، امرأۃ لوط، امرأۃ العزيز، امرأۃ عمران
اسی طرح حدیثِ مبارک میں آتا ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک خاتون آئیں جن کا نام زینب تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: “کون سی زینب؟” تو عرض کیا گیا: “امرأۃ ابن مسعود” یعنی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی زوجہ۔
لہٰذا اس میں کوئی حرج نہیں۔ احادیث میں بھی متعدد مقامات پر اس طرح کا اسلوب ملتا ہے، جیسے: عائشہ زوج النبی ﷺ، ام حبیبہ زوج النبی ﷺ
اس بنا پر پہچان اور تعارف کے لیے شوہر کی طرف نسبت کرنا جائز ہے، بشرطیکہ نسب تبدیل کرنے یا اپنے حقیقی والد کی طرف نسبت ختم کرنے کا مقصد نہ ہو۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ