سوال (6371)

میرا سوال یہ ہے کہ صحابہ کی وفات پر جو جلوس نکالے جاتے ہیں اسکی شرعی حیثیت کیا ہے، اور ایسے جلوس میں شریک ہونا کیسا ہے؟

جواب

صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین کی وفات پر جلوس وغیرہ وہی نکالا کرتے ہیں جو دین وایمان کی بصیرت وفھم سے محروم ہیں۔ یہ سراسر غلط اور غلو ہے۔
قرآن وحدیث میں نیک لوگوں کے یوم میلاد اور یوم وفات پر جلوس ومجالس کا انعقاد و اہتمام کرنے کے بارے میں کوئی تعلیم وترغیب موجود نہیں ہے نہ ہی یہ ایمان کے تقاضوں میں سے ہے بلکہ یہ محض ایک بری ترین رسم ہے جس سے اجتناب لازم ہے۔
قرآن وحدیث کی تعلیم وترغیب صرف صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین وغیرہ کے فضائل ومناقب اور سیرت وکردار کو بیان کرنا ہے اور انہی کی طرح قرآن وحدیث کی پیروی کرنا ہے۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

مقدس ہستیوں کی جشن منانا اس کا دین اسلام میں تصور نہیں ہے، ورنہ کوئی دن نہیں بچے گا، ہمارے پاس کئی شخصیات ہیں، یہ ایک بدعی مطالبہ ہے، اس سے باز رہنا چاہیے، باقی شخصیات کا تذکرہ ہوتا رہتا ہے، اس کے لیے کوئی تاریخ یا مہینوں کی ضرورت نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ