سوال 7041
السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
محترم شیخ صاحب کیا کسی نیک شخصیت کے بارے ایسا کہا جاسکتا ہے؟ ان کے مبارَک ہاتھ یا یہ مبارَک شخصیت وغیرہ؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کچھ الفاظ گنجائش کی حد تک تو ٹھیک ہوتے ہیں، لیکن انہیں عام رواج دے دینا کبھی کبھی فتنے کا سبب بن جاتا ہے اور اس سے عقیدے میں کمزوری آنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ جیسے جب آیتِ تیمم نازل ہوئی تو حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ “اے ابوبکر کی اولاد! یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے”۔ اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ محبت میں ایسے تعریفی کلمات کہے جا سکتے ہیں۔
مگر ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ شیطان ہمیں بہکا کر حد سے نہ بڑھا دے یا غلو میں نہ ڈال دے۔ اسی لیے سلفی حضرات ایسے الفاظ سے بچتے ہیں اور یہی بہتر طریقہ بھی ہے کہ احتیاط کی جائے۔ ہاں، اگر کسی نے نادانستہ یا جذبات میں آکر ایسا کہہ دیا ہے تو اس پر کوئی سخت فتویٰ نہیں لگانا چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




